مزید دو معاونین خصوصی کی تعیناتی: شہباز شریف کابینہ کی تعداد 72 ہو گئی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ایک جانب ملک کا بڑا حصہ سیلاب میں ڈوبا ہوا اور حکومت کی جانب سے کوئی مسئلہ بھی حل نہیں کیا جارہا ایسے میں معاونین کی تعیناتی غریبوں کے منہ پر طماچہ کے مترادف ہے۔

ایک جانب آدھے سے زیادہ ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا اور دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف سیلاب متاثرین کو مشکلات میں چھوڑ کر اپنی کابینہ میں اضافہ کرتے جارہے ہیں ، گذشتہ روز ایک مرتبہ پھر دو نئے معاونین خصوصی تعینات کردیئے ہیں جس کے بعد کابینہ ارکان کی تعداد 72 ہو گئی ہے۔

سردار شاہ جہاں یوسف اور ملک نعمان احمد لنگڑیال کو وزیر اعظم شہباز شریف نے بطور معاونین خصوصی تعینات کیا ہے ، جس کے بعد وفاقی کابینہ کے ارکان کی تعداد 72 ہو گئی ہے ، جس میں 34 وفاقی وزرا، 7 وزرائے مملکت، 4 مشیران اور 27 معاونین خصوصی ٹو وزیراعظم شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کوئی مجھے بائی پاس نہ کرے، عمران خان کا پارٹی رہنماؤں کو معنی خیز انتباہ

اداروں میں موجود لوگ لاڈلے کو تحفظ دینا چھوڑ دیں، مریم نواز کا سنگین الزام

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی 8 معاونین خصوصی مقرر کیے گئے تھے جن میں رضا ربانی، ارشاد احمد خان، فیصل کریم کنڈی، مہیش کمار ملانی، فیصل کریم کنڈی، سردار سلیم حیدر، تسنیم احمد قریشی اور محمد علی شاہ باچا شامل تھے۔

گذشتہ سے پیوستہ

نیوز 360 نے اگست میں رپورٹ کیا تھا کہ حکمران اتحاد میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کو ایڈجسٹ کرنے کے دباؤ میں وزیر اعظم شہباز شریف کی کابینہ کی تعداد 62 ہو گئی ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کی 52 رکنی کابینہ پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ وہ کفایت شعاری کو اپناتے ہوئے اپنے کابینہ کو مختصر رکھیں گے ، تاہم اعلان کے بعد سے کابینہ کے ارکان کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔

کوئی وزارت نہ ہونے کی وجہ سے چوہدری سالک حسین کو کسی وفاقی وزارت یا ڈویژن کا قلمدان نہیں بلکہ سرمایہ کاری بورڈ کا قلمدان دے دیا گیا۔

اسی طرح وزارت توانائی کے دو ڈویژنوں میں سے خرم دستگیر کو پاور ڈویژن کا قلمدان دیا گیا جب کہ وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈویژن کا عہدہ تاحال خالی ہے۔ مصدق ملک کو وزیر مملکت کا قلمدان سونپ دیا گیا۔

خواجہ سعد رفیق کے پاس وزارت ریلوے سمیت ایوی ایشن ڈویژن کا قلمدان بھی ہے، وزیراعظم کے معاونین خصوصی کی تعداد 17 ہو گئی ہے اور صرف تین کے پاس قلمدان ہیں باقی 14 معاونین خصوصی کے پاس کوئی قلمدان نہیں ہے۔ سات وزرائے مملکت اور پانچ مشیر ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ایک جانب ملک کا بڑا حصہ سیلاب میں ڈوبا ہوا اور حکومت کی جانب سے سیلاب زدگان کا کوئی مسئلہ بھی حل نہیں کیا جارہا ایسے میں معاونین کی تعیناتی غریبوں کے منہ پر طماچہ کے مترادف ہے۔

متعلقہ تحاریر