آئی ایم ایف کا ایک اور وار: ایف بی آر کو 8300 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف دیدیا

بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے رواں مالی سال میں ہی ایف بی آر کو 800 ارب روپے کی زائد ٹیکسز جمع کرنے کا ہدف دے دیا ہے۔

آئی ایم ایف نے ٹیکس آمدن میں 800 ارب روپے تک اضافے کا مطالبہ کردیا، ٹیکس آمدنی کا ہدف 8100 سے 8300 ارب روپے تک مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت مشکل میں پھنس گئی۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا دوسرے روز ٹیکس حکام سے ملاقات ہوئی، جس میں ٹیکس آمدن بڑھانے اور ٹیکس آمدنی بڑھا کر خسارہ کنٹرول کرنے کےلیے مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافے کے بعد ریلوے کے کرایوں میں 8 اضافہ کردیا گیا

اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ڈالر اور سونے کے بھاؤ مزید بڑھ گئے

وزارت خزانہ کے ذرائع  کے مطابق ٹیکنیکل مذاکرات میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ بات چیت ہوئی۔

اجلاس میں فروری میں منی بجٹ لانے کی تیاریوں پر بات چیت ہوئی۔ مذاکرات میں حکومت پاکستان منی بجٹ کے ذریعے 200 ارب کے ٹیکسز بڑھانے پر راضی تھی لیکن آئی ایم ایف نے ڈومور کا مطالبہ کردیا گیا ہے اور  آئی ایم ایف کا 600 سے 800 ارب روپے ٹیکس لگانے کا مطالبہ کردیا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان سے معشیت کے 1 فیصد تک ٹیکس آمدن بڑھانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ معیشت کے ایک فیصد ٹیکسز بڑھانے سے ٹیکس آمدن میں 600 سے 800 ارب روپے کا اضافہ طلب کیا جا رہا اور خاص طور پر  فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی 30 جون 2023 تک ٹیکسز کا سالانہ ہدف 8300 ارب تک مقرر کرنے پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

وفاقی حکومت سخت ترین معاشی حالات اور درآمدات کی سخت ترین حوصلہ شکنی کے باوجود بھی 30 جون 2023 تک 7470 ارب روپے کا ٹیکس ہدف جمع کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

متعلقہ تحاریر