شرح سود میں مزید 2 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے، معاشی ماہرین کی نیوز 360 سے گفتگو

نیوز 360 کے سروے کے دوران معاشی ماہرین نے بتایا کہ 1996 میں بھی شرح سود 20 فیصد کی بلند ترین سطح پہنچ گئی تھی۔

20 کے قریب معاشی ماہرین ، صنعتکاروں اور مختلف اداروں کے سی ای اوز نے کہا ہے کہ حکومت شرح سود 200 بیسس پوائنٹس یعنی 2 فیصد تک تو ضرور بڑھائے گی۔

نیوز 360 کے نامہ نگار نے گذشتہ روز اسلام آباد کے معروف معاشی ماہرین ، صنعتکاروں اور مختلف اداروں کے سی ای اوز کے ساتھ موجودہ معاشی صورتحال اور اسٹیٹ بینک کی آنے والی مانیٹری پالیسی کے حوالے سے گفتگو کی۔

یہ بھی پڑھیے

ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے بجلی 12 روپے 13 پیسے فی یونٹ مزید مہنگی

تمام ادارے بغیر کسی استثنیٰ کے کفایت شعاری پرعملدرآمد یقینی بنائیں، اسحاق ڈار

نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے 3 سی ای اوز کا کہنا تھا کہ حکومت جمعرات کو روز جو مانیٹری پالیسی اناؤنس کرنے جارہی ہے اس میں 300 بیسس پوائنٹس کا اضافہ متوقع ہے ، 2 نے  اپنا ویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے خیال میں 205 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا جائے گا ، 12 نے اپنا اوپین دیتے ہوئے کہا کہ 200 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ 3 خیال کا خیال تھا کہ مانیٹری پالیسی میں 100 سے 150 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ شرح سود میں 3 فیصد اضافہ کیا گیا تو شرح سود 20 فیصد تک پہنچ جائے گی ، 1996 کے بعد شرح سود میں سب سے بڑا اضافہ ہوگا کیونکہ اس وقت بھی شرح سود 20 فیصد پر پہنچ گئی تھی۔ جبکہ 18 جون 1997 کو شرح سود 19 فیصد پر اسٹینڈ کررہی تھی۔

نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا جنوری کے مہینے میں افراط زر 27.6 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمعرات کے روز نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرنے جارہا ہے۔

متعلقہ تحاریر