ڈسکوز کی نااہلی مالی سال 2022 میں 400 ارب روپے کے خسارے کا سبب بنی
بجلی کی ترسیل اور تقسیم کی مد میں ہونے والے نقصانات میں 2022 کے دوران 10 فیصد اضافہ ، لائن لاسز کی مد میں 170 ارب روپے جبکہ بلوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں قومی خزانے کو 230 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا

مالی سال 2022 میں لائن لاسز کی شکل میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں ( ڈسکوز ) کی نااہلی قومی خزانے کیلیے 400 ارب روپے خسارے کا سبب بنی۔
بجلی کی ترسیل اور تقسیم کی مد میں ہونے والے نقصانات میں 2022 کے دوران 10 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ لائن لاسز کی مد میں 170 ارب روپے جبکہ بلوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں قومی خزانے کو 230 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیے
وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کے لیے بجلی 6 روپے فی یونٹ مہنگی کرنے کی سفارش کردی
حکومت نے 8 ماہ میں مرکزی بینک سے 2260 ارب روپے قرض حاصل کیا، رپورٹ
نیپرا کے ذرائع کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2022 کے دوران بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے دوران مجموعی طور پر10.6ارب یونٹس ضائع ہوئے جن کی مالیے 170ارب روپے بنتی ہے۔

پشاور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن ( پیسکو) نے لائن لاسز کی مد میں قومی خزانے کو سب سے بڑا ٹیکا لگایا،پیسکو نے لائن لاسز کی مد میں لگ بھگ 4800 ملین یونٹس ضائع کیے جبکہ حیسکو، میپکو، کیسکو اور سپیکو کے لائن لاسز 1200 سے 1500 ملین یونٹس کے درمیان رہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2022 میں ڈسکوز نے بلنگ کی مد میں کم رقم جمع کرکے قومی خزانے کو 230 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کو بلوں کی وصولی میں سب سے زیادہ خسارے کا سامنا رہا ۔
کیسکوصارفین سے 62 ملین یونٹس کے بلوں کی وصول میں ناکام رہی۔میپکو کو تقریباً32 ملین یونٹس، حیسکو اور سیپکو کو تقریباً 23 ملین یونٹس، لیسکو ، پیسکو اور فیسکو کو لگ بھگ 19 ملین یونٹ خسارے کا سامنا رہا۔









