رواں مالی سال 9 ماہ میں گاڑیوں کی فروخت 47 فیصد تنزلی کا شکار

جولائی تا مارچ ایک لاکھ 9 ہزار 466 گاڑیاں فروخت ہوئیں، گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 2 لاکھ 5ہزار 452گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں

پاکستان میں رواں مالی سال کے 9 ماہ  کے دوارن گاڑیوں کی فروخت 47 فیصد تنزلی کے بعد ایک لاکھ 9 ہزار 466 یونٹس رہ گئی۔

 گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران مجموعی طور پر 2 لاکھ 5 ہزار 452 گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

فروری میں گاڑیوں کی فروخت 73 فیصد کمی کے ساتھ 3 سال کی کم ترین سطح پرآگئی

جنوری 2023 میں گاڑیوں کی فروخت سالانہ بنیاد پر 47فیصد کمی ریکارڈ

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مارچ میں ماہانہ بنیادپر 61 فیصد اضافے کے ساتھ  9 ہزار 351 یونٹس کی فروخت  کے باوجودقیمتوں میں اضافے،کار فنانسنگ کی بلند شرح سود اور کارخانوں کی بندش کو  مالی سال 2023 کے ابتدائی 9 ماہ میں گاڑیوں کی فروخت میں کمی کی وجہ قرار دیاجارہا ہے۔

 مارچ 2023 میں گاڑیوں کی فروخت کا موازنہ پچھلے سال کے اسی مہینے سے کیا جائے تو اس میں 66 فیصد کمی ہوئی، مارچ 2022 میں 27 ہزار 202 گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں۔

پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز (پاما) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں ٹرک کی فروخت 46 فیصد گر کر 279 یونٹس رہ گئی، فروری میں یہ تعداد 521 تھی جبکہ مارچ 2022 میں 500 ٹرک فروخت ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں رواں مالی سال کے ابتدائی 9 مہینے میں ٹرک کی فروخت 37 فیصد کمی کے بعد 2 ہزار 825 یونٹس رہ گئی جو گزشتہ برس کے اسی عرصے میں 4 ہزار 493 یونٹس تھی۔

فروری کے 136یونٹس کے مقابلے میں مارچ میں صرف 29 بسیں فروخت ہوئیں   136 جبکہ گزشتہ برس مارچ میں 65 بسیں فروخت ہوئی تھیں جس سے ماہانہ بنیاد پر بسوں کی فروخت میں  79 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 55 فیصد کمی ظاہر ہوتی ہے، تاہم ماہانہ بنیادوں پر کم فروخت کے باوجود مالی سال 2023 کے ابتدائی 9 مہینے میں بسوں کی مجموعی فروخت 22 فیصد بڑھ کر 557 فیصد ہو گئی، جو گزشتہ برس اسی عرصے میں 458 یونٹس تھی۔

اسی طرح 49 فیصد تنزلی کے بعدرواں مالی سال کے 9 ماہمیں  21 ہزار 233 ٹریکٹرز فروخت ہوئے، گزشتہ برس ٹریکٹرز کی فروخت 41  ہزار 603 یونٹس رہی تھی، مارچ میں 2 ہزار 984 ٹریکٹرز کی فروخت کے ساتھ ماہانہ اور سالانہ بنیاد پر بسوں کی فروخت میں بالترتیب 10 فیصد اور 47 فیصد کمی ہوئی۔

موٹرسائیکلوں کی فروخت 9 لاکھ 8 ہزار 555 یونٹس ریکارڈ کی گئی، جو مالی سال 2022 کے ابتدائی 9 مہینوں کے 13 لاکھ 48 ہزار کے مقابلے میں 33 فیصد کم ہے، مارچ میں 83 ہزار 149 موٹرسائیکلیں فروخت ہوئی تھیں، یہ اعداد و شمار ماہانہ بنیاد پر 17 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 43 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔

مارچ میں رکشوں کی فروخت ایک ہزار 158 ریکارڈ کی گئی، جو ماہانہ بنیاد پر 54 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 71 فیصد کمی ہے جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی 9 مہینے میں رکشوں کی مجموعی فروخت 16 ہزار 148 رہی، جن کی تعداد گزشتہ برس 31 ہزار 231 رہی تھی۔

ہونڈا اٹلس کار لمیٹڈ کی مارچ میں صرف 835 گاڑیاں فروخت ہوئیں، یہ اعداد و شمار ماہانہ بنیاد پر 49 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 77 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں جبکہ مالی سال 2023 کے 9 ماہ  میں مجموعی فروخت 46 فیصد تنزلی کے بعد 16 ہزار 278 یونٹس ریکارڈ کی گئی۔

ماہانہ فروخت میں 61 فیصد کمی کے بعد 118 یونٹس ہونے کے باوجود سازگار انجینئرنگ نےرواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں 1361 گاڑیاں فروخت کیں جبکہ گزشتہ برس اسکے  170 یونٹس فروخت ہوئے تھے۔

پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹڈ (پی ایس ایم سی ایل) کی مارچ میں فروخت بڑے اضافے کے بعد 5 ہزار 628 ہو گئی، یہ تعداد فروری میں 978 ریکارڈ کی گئی تھی تاہم سال بہ سال فروخت 63 فیصد تنزلی کا شکار ہی  ، مالی سال 2023 میں جولائی تا مارچ پاک سوزوکی کی فروخت 47 فیصد گر کر 57 ہزار 922 یونٹس رہی، یہ تعداد گزشتہ برس کے اسی عرصے میں ایک لاکھ 9 ہزار 419 ریکارڈ کی گئی تھی۔

ٹویوٹا گاڑیوں کے اسمبلر انڈس موٹر کمپنی نے مارچ میں 6 فیصد زیادہ یعنی ایک ہزار 912 گاڑیاں فروخت کیں، یہ تعداد فروری میں 1803 تھی تاہم سالانہ بنیادوں پر 73 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

ہنڈا کی  موٹرسائیکلوں کی فروخت بھی   16 فیصد کمی کے بعد 71 ہزار 827 یونٹس رہی، یہ تعداد فروری میں 85 ہزار 47 تھی، تاہم سالانہ بنیادپر فروخت میں 38 فیصد کمی ہوئی، جس کے نتیجے میں مالی سال کے ابتدائی 9 مہینے میں ہونڈا کی مجموعی طور پر 7 لاکھ 69 ہزار 691 موٹرسائیکلیں فروخت ہوئیں، یہ تعداد گزشتہ برس 10 لاکھ 18 ہزار ریکارڈ کی گئی تھی۔

متعلقہ تحاریر