مہنگائی کی شرح پھر 48فیصد سےبلند، ایک سال میں آٹا، پتی، آلو 100فیصد سے زائد مہنگے

11 مئی 2022 سے11 مئی 2023 کے دوران آٹا 101 فیصد، آلو 112 فیصد، انڈے  90 فیصد، چائے کی پتی 106 فیصد، چاول 90 فیصد اور دال مونگ 60 فیصد مہنگی ہوگئی، ادارہ شماریات

ملک بھر میں مسلسل دوسرے ہفتے سالانہ مہنگائی کی شرح 48 فیصد سے بلند رہی ،  ایک سال میں آٹا، پتی اور آلو  100 فیصد سے زائد مہنگے  ہوگئے۔

ادارہ شماریات کے  مطابق 11 مئی کو ختم والے ہفتے میں مہنگائی  کی شرح مزید  0.27 فیصد  بڑھ گئی اور    سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 48.02 فیصد ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیے

ایف بی آر آفیسر نے بڑھتی مہنگائی اور کم تنخواہوں کی وجہ سے دفتر آنے سے معذرت کرلی

مہنگائی میں اضافے اور کم تنخواہ سے پریشان پنجاب پولیس کے دیانتدار افسر نے استعفیٰ دے دیا

ادارہ شماریات  نے حساس اعشاریوں پر مبنی ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی ہے  جس کے مطابق ایک ہفتے میں ٹماٹر 6.3 فیصد، گڑ 3.4 فیصد، آٹا 2.7 فیصد اور چائے 2.6 فیصد مہنگی ہوئی۔

ایک ہفتے میں آلو 2.1 فیصد، خشک دودھ 1.9 فیصد، انڈے 1.8 فیصد، باسمتی ٹوٹا چاول 1.4 فیصد مہنگے ہو گئے۔ ایک ہفتے میں پیاز 9.4 فیصد، مرغی 2.2 فیصد اور لہسن 1.3 فیصد سستے ہو گئے۔

  گزشتہ  ہفتے  23 اشیاکی قیمتوں میں اضافہ، 7 اشیاء  کی قیمتوں میں کمی جبکہ 21 اشیاکی قیمتوں میں استحکام رہا۔ ٹماٹر2 روپے 54 پیسے، آلوایک روپے 67 پیسے، گائے کا گوشت 5 روپے 22 پیسے فی کلو،  انڈے 5 روپے فی درجن اورآٹے کا 20 کلو کاتھیلا   74 روپے اضافے کے بعد  2683 سے بڑھ کر2757 روپے کا ہوگیا جبکہ دال ماش 4 روپے اورمٹن 9 روپے فی کلو، چائے کا 190 گرام کا پیکٹ 5 روپے مہنگا ہوگیا ۔

ادار ہ شماریات  کے مطابق ایک ہفتے میں  پیاز6 روپے، مرغی کا گوشت 10 روپے، لہسن 5 روپے فی کلوسستا ہوا،  ایل پی جی کا 11.67 کلوگرام سلنڈر51 روپے 33 پیسے سستا ہوا۔

اعداد وشمار کے مطابق 11 مئی  2022 سے  11 مئی  2023 کا جائزہ لیا جائے تو آٹا  101 فیصد، آلو 112 فیصد، انڈے  90 فیصد، چائے کی پتی  106 فیصد، چاول  90 فیصد اور دال مونگ  60 فیصد مہنگی ہوئی۔

متعلقہ تحاریر