جنیوا کانفرنس سے حاصل امداد کی تفصیلات فراہم کی جائیں، آئی ایم ایف کی ایک اور شرط
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے وزارت خزانہ اور وزارت منصوبہ بندی کو جون تک 50 کروڑ ڈالر جمع کرنے کا ہدف دیا تھا۔
پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان قرض پروگرام کی بحالی میں آئے روز نئے سے نئے تنازعات سامنے آرہے ہیں۔ تازہ ترین پیشرفت کے مطابق آئی ایم ایف نے وزارت خزانہ سے سیلاب متاثر کے لیے جنیوا ڈونر کانفرنس کے ذریعے حاصل ہونے والی امداد کی تفصیلات طلب کرلیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جنیوا ڈونر کانفرنس کے تحت فنانسنگ نہ ملنے پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔ آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ ڈونر کانفرنس کے تحت 50 کروڑ ڈالر جمع کرنے کا پلان دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
منافع کی بیرون ملک منتقلی میں رکاوٹ پاکستان کو ایل این جی نہ ملنے کی وجہ بن گئی
شہباز حکومت کا کراچی والوں کو لوٹنے کا پروگرام، بجلی کا فی یونٹ 1.52روپے مزید مہنگا
آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ وزارت منصوبہ بندی اور وزارت خزانہ مطلوبہ رقم حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
وزارت منصوبہ بندی اور وزارت خزانہ کے حکام نے آئی ایم ایف کے حکام کو بتایا ہے کہ ڈونر کانفرنس کے تحت ابھی تک 15 کروڑ ڈالر جمع ہوئے ہیں۔ رقم سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے خرچ ہو گی۔
دوسری جانب ذرائع نے انکشاف کیا کہ بیرونی فنانسنگ کے خلا کو پر کرنے کے منصوبے میں جنیوا میں منعقدہ ڈونر کانفرنس سے ملنے والے فنڈز بھی شامل کیے گئے تھے۔
جنیوا ڈونر کانفرنس کا مقصد پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی مالی ضروریات کو پوران کرنے کے لیے امداد اکٹھا کرنا تھا۔ آئی ایم ایف نے جنیوا ڈونر کانفرنس کے ذریعے جون تک 500 ملین ڈالر حاصل کرنے کا ہدف دیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فنڈز کے حصول کی کوششوں میں وزارت منصوبہ بندی اور وزارت خزانہ کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ، جس کی وجہ سے جنیوا ڈونر کانفرنس سے مطلوبہ رقم حاصل نہیں ہوسکی۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کانفرنس کے ذریعے حاصل ہونے والی مالی امداد کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کیا ہے۔









