انٹربینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر میں اضافہ جاری ہے
کاروباری ہفتے کے چوتھے روز غیر ملکی کرنسی 285.15 روپے پر بند ہوئی۔
جمعرات کو انٹربینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے ڈالر نے اپنی بلندی کی رفتار کو جاری رکھا، کاروباری ہفتے کے چوتھے روز مقامی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قدر 1 روپیہ 35 پیسے کا اضافہ ہوا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق امریکی ڈالر 285.15 روپے پر بند ہوئی۔ دریں اثناء اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر روپے کے مقابلے میں مزید 3 روپے اضافے سے 293 روپے پر بند ہوا۔
Interbank closing #ExchangeRate for todayhttps://t.co/7dxjpQhMXu#SBPExchangeRate pic.twitter.com/EEh6Ex43HE
— SBP (@StateBank_Pak) July 20, 2023
آئی ایم ایف ڈیل ، سعودی عرب اور یو اے ای کی جانب سے اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹس تقریباً چار ارب ڈالر کی آمد کے باوجود پچھلے کچھ دنوں سے روپیہ کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ماری پیٹرولیم نے کلچس بلاک میں 44 فیصد حقوق حاصل کر لیے
بجلی کے بلوں پر ٹی وی کے بعد ریڈیو فیس عائد کرنے کی تیاری
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ حکمران اتحاد، جس نے جون میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے آخری معاہدہ کیا تھا کہ اس بات کو یقینی بنانے کا عزم کیا تھا کہ انٹربینک، اوپن اور غیر رسمی مارکیٹوں کی شرح تبادلہ میں غیرمعمولی فرق نہیں ہوگا۔
IMF کی طرف سے 18 جون کو شائع ہونے والی 120 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’’انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ کے درمیان اوسط پریمیم کسی بھی مسلسل پانچ کاروباری دنوں کے دوران 1.25 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگا۔‘‘
یہ مطالبہ اس سال کے شروع میں ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے ڈالر کی قیمت میں کمی کے بعد کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی قلت کی وجہ سے مارکیٹ میں "مصنوعی” بگاڑ پیدا ہوا اور ایک بلیک مارکیٹ نے جنم لیا ، جہاں امریکی کرنسی زیادہ نرخوں پر بک رہی تھی۔
اٹلانٹک کونسل کے ساؤتھ ایشیا سینٹر میں پاکستان انیشی ایٹو کے ڈائریکٹر عزیر یونس نے منگل کے روز بتایا تھا کہ "بہت سارے خطرات اور کمزوریاں کو دور کرنے کے لیے ایک مضبوط میکرو فریم ورک کی بنیاد رکھنا ہو گی۔”









