ہڑتال کی دھمکی کا نتیجہ: حکومت کا پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سے رابطہ

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات کے حق میں 22 جولائی کو ملک بھر میں فیول پمپس بند رکھنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) کی جانب سے پیٹرول پمپس بند کرنے کے اعلان کے بعد شہباز شریف حکومت کی آنکھ کھل گئی ، وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے جمعے کے روز ایسوسی ایشن سے رابطہ کرکے ان کے تحفظات کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

پاکستان سٹیٹ آئل (PSO) کے ہیڈ کوارٹرز میں شام 4 بجے ایک اہم اجلاس ہونے والا ہے۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے ایک بیان میں بلند شرح سود اور افراد زر کے کاروبار پر پڑنے والے نمایاں اثرات کو اجاگر کیا تھا ، جس کی بنا پر ڈیلر کے مارجن میں اضافے کی درخواست کی گئی تھی۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پٹرول پمپ مالکان اور آپریٹرز کو درپیش مالی دباؤ کو دور کرنے کے لیے فی لیٹر ان کا  کمیشن 5 فیصد بڑھائے۔

یہ بھی پڑھیے 

پیٹرولیم ڈیلرز 22 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیا

ماری پیٹرولیم نے کلچس بلاک میں 44 فیصد حقوق حاصل کر لیے

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ملک میں اسمگل شدہ ایرانی تیل کی کھپت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسمگل شدہ ایرانی تیل کی فروخت سے ان کی سیل 30 فیصد کم ہو گئی ہے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایندھن کی اس غیر قانونی تجارت نے پیٹرول پمپ آپریٹرز کے جائز کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

پی پی ڈی اے نے موجودہ منافع کے مارجن پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس وقت تک ہڑتال کی کال واپس نہیں لیں گے جب تک وزیر مصدق ملک کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کے دوران کوئی تسلی بخش حل نہیں نکل آتا۔

متعلقہ تحاریر