حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے، بجلی کے بعد گیس مہنگی کرنے کی تیاری کرلی
شہباز حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو دیئے گئے پلان کے مطابق گیس مزید 45 فیصد سے زائد مہنگی کی جائے گی۔

شہباز شریف حکومت نے عوام کی زندگی اجیرن کردی، بجلی کے بعد اب گیس کے نرخ بھی کسی بھی وقت مہنگے ہوسکتے ہیں، حکومت نے گیس کے نرخ میں 45 فیصد سے زائد اضافے کی تیاری کرلی۔
وفاقی حکومت نے بجلی کے بعد اب آئی ایم ایف کو گیس کے ریٹ بڑھانے کا پلان دے دیا ہے۔ آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ گیس کے ریٹ بڑھانے میں تاخیر نہ کی جائے، جسے تسلیم کرلیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں سونے کی درآمدات میں 37.40 فیصد ریکارڈ اضافہ
15 ماہ بعد پی ایس ایکس 100 انڈیکس 46000 پوائنٹس عبور کرگیا
آئی ایم ایف نے گردشی قرض کم کرنے کیلئے رواں مالی سال کیلئے نیا پلان مانگ لیا ہے اور وفاقی کابینہ جولائی کے آخر تک گردشی قرض مینجمنٹ پلان 2024 منظور کرے۔
گردشی قرض مینجمنٹ پلان 2023 کے ساتھ حکومت اداروں کی کارکردگی کا مکمل جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ نئے پلان میں گردشی قرض کے 392 ارب روپے ادا کرنے کیلئے اقدامات لیے جائیں گے۔
بجلی گردشی قرض کے حجم کو 2374 ارب روپے پر روکا جائے گا۔ پاور ہولڈنگ کمپنی کے قرض ادائیگی کیلئے 10 سال منصوبہ بنایا جائے۔
رواں مالی سال سے مقامی اور درآمدی گیس کیلئے اوسط قیمت والا ٹیرف اختیار کیا جائے ، سوئی کمپنیوں کے گیس نقصانات روکنے کا طریقہ کار تیار کیا جائے۔
آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق نئے مالی سال یکم جولائی 2023 سے 30 جون 2024 تک گیس پر کسی قسم کی سبسڈی نہیں دی جائے گی اور ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے بھی گیس کی سبسڈی ختم کردی جائے گی۔









