ایف بی آر جولائی کا مقررہ کردہ ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام

رواں مالی سال کے پہلے مہینے میں 532 ارب روپے کی آمدنی ہوئی جبکہ ایف بی آر نے 534 ارب روپے کا ہدف مقرر کررکھا تھا۔

اسلام آباد: درآمدات میں کمی کے باعث فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جولائی کے طے کردہ ہدف سے تقریباً 2 ارب روپے کم حاصل کیے ہیں ، یہ اعدادوشمار گزشتہ روز ایف بی آر نے جاری کیے تھے۔

رواں مالی سال کے پہلے مہینے میں 532 ارب روپے کی آمدنی ہوئی جبکہ ایف بی آر نے 534 ارب روپے کا ہدف مقرر کررکھا تھا۔

روزنامہ ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے ایف بی آر کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا ہے کہ ہم "ہم آخر کار مہینے کے مقررہ ہدف کو عبور کر لیں گے۔”

اہلکار کا بتانا تھا کہ ضروری ایڈجسٹمنٹ کیے جانے کے بعد ماہ کے لیے محصولات کی وصولی 535 ارب روپے سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

ایف بی آر کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ سال ماہ جولائی میں 462 ارب روپے وصول کیے گئے تھے جو موجودہ ہدف سے تقریباً 19.15 فیصد کم ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شہباز حکومت کی ظلم کی انتہا، پیٹرول کی قیمت میں 19.95 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا

بجلی کے بعد ایل پی جی کی قیمت میں بھی ریکارڈ 23.85 روپے فی کلو اضافہ

حکومت نے مالی سال 2023 اور 24 کے لیے 9.415 کھرب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ گزشتہ مالی 2022-23 میں یہ ہدف 7.2 کھرب روپے رکھا گیا تھا۔ یعنی موجودہ ہدف 30 فیصد اضافے کے ساتھ 2.219 کھرب روپے بنتا ہے۔

حکومت 3.5 فیصد کی متوقع اقتصادی ترقی، 21 فیصد کی اوسط مہنگائی اور کچھ محصولاتی اقدامات کی بنیاد پر ہدف حاصل کرنے کی امید رکھتی ہے۔

حکومت کو مالی سال 2023-24 میں خودمختار نمو – جی ڈی پی کی نمو اور افراط زر کی مد میں جو محصولات حاصل ہوں گے ان کی مالیت 1.76 ٹریلین روپے متوقع ہے۔

مالی سال 23 میں، ایف بی آر نے ڈیوٹی ایبل درآمدات میں زبردست کمی اور جنرل سیلز ٹیکس کی خراب کارکردگی کی وجہ سے اپنے سالانہ بجٹ کی وصولی کے ہدف میں تقریباً 522 ارب روپے یا 8.83 فیصد کمی کی۔

محصولات کی وصولی 27 جون تک 7.118 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی جب کہ مالی سال 23 کے لیے 7.64 ٹریلین کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

ایف بی آر کے سینئر اہلکار نے ڈان نیوز کو بتایا کہ درآمدی مرحلے پر محصولات کی وصولی کا حقیقی اثر اگلے دو مہینوں میں سامنے آئے گا۔

متعلقہ تحاریر