پاکستانی معیشت کے بارے میں 3 خوشخبریاں

ترسیلاتِ زر میں ریکارڈ اضافہ، اسٹاک ایکسچینج میں تیزی اور برآمدات کا بڑھتا ہوا حُجم حکومت کے لیے 3 خوشخبریاں ہیں۔

سال 2020 کرونا کے باعث دنیا بھر کے لیے مشکل ترین سال رہا لیکن وزیر اعظم عمران خان کے اقدامات کی بدولت پاکستانی معیشت میں بہتری دیکھی گئی۔ رواں مالی سال کے 6 ماہ کے دوران ترسیلات زر کا مجموعی حُجم 14.2 ارب ڈالرز رہا جو گزشتہ برس سے 24.9 فیصد زیادہ ہے۔

سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں اضافے کا رجحان برقرار ہے۔ دسمبر 2020 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر پاکستان بھجوائے۔

وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں تاریخ سازاعدادوشمارپرسمندر پارپاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا۔ اُنہوں نے لکھا کہ پہلی مرتبہ پاکستان کی ترسیلات زرمسلسل 6 ماہ تک 2 ارب ڈالرز سے زیادہ رہیں۔

 ترسیلات زر میں اضافے کی ایک بڑی وجہ روشن ڈجیٹل اکاؤنٹ اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کو قرار دیا جارہا ہے۔ ملک میں ترسیلات زرمیں اضافے کا اثراسٹاک مارکیٹ پر بھی پڑا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آخری روز یعنی جمعہ کو بھی تیزی دیکھی گئی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں 309.80 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ جس کے بعد مارکیٹ 45 ہزار 654 پوائنٹس پربند ہوئی۔

سرمایہ کاری کی مالیت 61 ارب 79 کروڑ 68 لاکھ روپے بڑھ گئی۔ 53.36 فیصد کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

روشن ڈجیٹل اکاؤنٹ میں ریکارڈ ترسیلات موصول

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال نومبر اوردسمبر میں پاکستان نے برآمدات میں انڈیا اور بنگلہ دیش کو مات دے دی تھی۔ پچھلے دنوں وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ میں علاقائی برآمدات کے رجحان سے متعلق تقابلی اعدادوشمار شیئر کیے تھے۔

اعدادوشمار کے مطابق نومبر2020 میں پاکستانی برآمدات میں 8.32 فیصد اوردسمبر میں 18.30 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے برعکس نومبر میں انڈیا کی برآمدات کا حجم منفی 9.07 فیصد اور دسمبر میں منفی 0.80 فیصد رہا ۔ جبکہ بنگلا دیش کی برآمدات میں نومبر 2020 میں 0.76 فیصد اور دسمبر 2020 میں 6.11 فیصد کی کمی ہوئی تھی۔

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے