شہباز شریف حکومت میں مہنگائی کے نئے ریکارڈ ، افراط زر 43.31 فیصد تک پہنچ گیا

عوام کا شکوہ ہے شہباز شریف حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے پر کوئی توجہ نہیں دے رہی، ایسی خوفناک مہنگائی میں بچوں کو پڑھائیں یا کھلائیں۔

مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ، شرح 42 فیصد سے زیادہ ریکارڈ، عوام کی قوت خرید وینٹی لیٹر پر پہنچ گئی۔

ملک میں مہنگائی کی شرح مسلسل نئے سے نئے ریکارڈ   بنا رہی ہے۔ ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 3.35 فیصد اضافہ ہوا ۔ پاکستان شماریات بیورو نے بھی خوفناک مہنگائی کا اعتراف کرلیا۔

یہ بھی پڑھیے

مالی سال 2021-22 میں 5259 ارب روپے کا بجٹ خسارہ ہوا، رپورٹ

حکومت کا تمام لگژری آئٹمز کی درآمد سے پابندی ہٹانے کا فیصلہ

غریب کیلئے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء کے دام بے لگام ہوگئے۔ ٹماٹر انڈے مرغی آٹا گوشت سب کچھ مہنگا ہوگیا، کیا کھائیں کیا نہ کھائیں، عوام پریشان ہیں۔

ادارہ شماریات کے مطابق حالیہ ہفتے برائلر مرغی 19روپے 12 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی، ٹماٹر 18 روپے 55 پیسے فی کلو پیاز ایک روپے 95 پیسے، انڈے 3 روپے 39 پیسے فی درجن مہنگے ہوئے۔

حالیہ ہفتے مٹن 5 روپے 82 پیس،دال مونگ 3 روپے اور دال ماش ایک روپے 4 فی کلو مہنگی ہوئی ایک ہفتے میں آٹے کا تھیلا بھی مہنگا ہوا۔

ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں لہسن 3 روپے 16 پیسے فی کلو، دال مسور ایک روپے 39 پیسے فی کلو سستی ہوئی، دال چنا ، گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی ہوئی۔

عوام کا شکوہ ہے شہباز شریف حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے پر کوئی توجہ نہیں دے رہی، ایسی خوفناک مہنگائی میں بچوں کو کیسے پڑھائیں۔ ہم بچوں کی فیسیں ادا کریں یا پھر بچوں کو کھانا کھلائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم غریبوں کے لیے ایک طرف کنواں ہے تو دوسری جانب کھائی ، گرنا دونوں صورتوں میں لازم ہے۔

متعلقہ تحاریر