مفتاح اسماعیل کے آؤٹ اور اسحاق ڈار کے اِن ہونے کا وقت آ گیا

آئین کے آرٹیکل 91 کی شق 9 کے تحت وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی وزارت کی معیاد 18 اکتوبر کو ختم ہورہی ہے جسے قبل ہی یہ وزارت اسحاق ڈار کو تفویض کردی جائے گی۔

وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل کی وزارت ڈگمانے لگی، اسحاق ڈار کی اسی ماہ میں وطن واپسی کی تیاریاں، مفتاح اسماعیل کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔

مسلم لیگ نون اور اس کی اتحادی حکومت کو پے در پے امتحان میں ڈالنے والے اور عوام کے لیے مشکل ترین فیصلے کرکے ،  حکومت اور اتحادی کے ووٹ بینک کو خطرات سے دو چار کرنے والے وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل کی وزارت کی کرسی بھی ڈگمانے لگی ہے اور یوں لگتا ہے کہ اب یہ وزارت،  ابھی گئی کہ ابھی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

فیول پرائس ایڈجسمنٹ اور وزیر اعظم کا اعلان ، اصل کہانی نیوز 360 پر

عوام کے لیے تمام ریلیف ختم ، آئی ایم ایف کے سامنے حکومت کی ایک نہ چلی

پاکستان میں معیشت کے انتہائی مقتدر حلقوں نے نیوز 360 کو بتایا ہے کہ وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے 18 اکتوبر سے زیادہ وزیر خزانہ نہیں رہ سکتے ہیں کیونکہ آئین کے آرٹیکل  91 کی کلاز 9، کسی بھی ایسے شخص کو وفاقی وزیر بنایا جاسکتا ہے جو وزارت سنبھالنے کے 6 ماہ بعد قومی اسمبلی یا سینیٹ کا الیکشن لڑنے کا اہل ہو۔ اسی لیے 18 اپریل 2022 کو جب وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی وفاقی کابینہ تشکیل دی تو  اسی قانون کے تحت ڈاکٹر مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ بنایا گیا۔ اب وہ 18 اکتوبر سے زیادہ وزیر خزانہ نہیں رہ سکتے ہیں،  لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل کی وزارت اس 6 ماہ کی قلیل مدت سے پہلے یہ خطرے میں ہے۔

مسلم لیگ نون کے معروف سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار وطن واپسی کے لیے پَر تول رہے ہیں اور ان کی واپسی ستمبر  میں ہی متوقع ہے۔ جیسے ہی وہ وطن واپس آئیں تو پہلے انہیں اپنے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا اور  پھر انہیں سینیٹر کے عہدے کا حلف اٹھانا پڑے گا جس کے بعد وہ وزیر خزانہ بنیں گے۔

اسحاق ڈار وزیر خزانہ بننے کے لیے شیروانی تیار کیے بیٹھے ہیں۔ پارٹی کی کچھ اراکین  اسحاق ڈار کو چیئرمین سینیٹ بنانے کی تجویز بھی دے چکے ہیں لیکن اسحاق ڈار اس تجویز کے حمایتی نہیں ہیں۔

موجودہ وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف سے قرض پروگرام بحال کرانے اور اس پر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے داد وصول کرنے کے باوجود ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور  انہیں خطرہ ہے کہ جیسے ہی اسحاق ڈار وطن واپس آئیں گی ان سے وزارت خزانہ کا قلمدان واپس لے لیا جائے گا۔ نیز معیشت کی بہتری کے لیے انہوں نے جو تاریخ کے مشکل ترین فیصلے کیے ہیں ان فیصلوں کے ساتھ وہ اپنے حلقے کی عوام کے سامنے تو کیا ، اپنی پارٹی کے اجلاس میں  سکون سے بیٹھنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر