ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کسان پیکیج اور نئے سی پیک منصوبوں پر سوالات اٹھادیے
1.8کھرب روپے کا کسان پیکیج خوش آئند ہے لیکن فنڈز کہاں سے آئیں گے؟ کون سے موجودہ اخراجات میں کٹوتی کی جائے گی یا بجٹ خسارہ مزید بڑھے گا؟ ماہر اقتصادیات

ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے وزیراعظم شہبازشریف کے کسان پیکیج کے قابل عمل ہونے پر سوالات اٹھادیے۔
قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ 1.8کھرب روپے کا کسان پیکیج خوش آئند ہے لیکن فنڈز کہاں سے آئیں گے؟
یہ بھی پڑھیے
اسحاق ڈار کے دعوے دعوے ہی رہ گئے ، حکومت چین سے خالی ہاتھ واپس لوٹ آئی
اسٹیٹ بینک اور پیپلز بینک آف چائنا کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط
ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کسان پیکیج سے متعلق اپنے ٹوئٹ میں سوال اٹھایا کہ کون سے موجودہ اخراجات میں کٹوتی کی جائے گی؟یا اس سے بجٹ خسارہ مزید بڑھے گا؟
Rs 1.8 tr Kisan Package is welcome. But where will the funds come from? What current exp will be cut? Or will it raise the budget deficit?
Also tractors will be imported. Even if low cost, it will need $s. Where will that come frm? More foreign debt?— Dr. Kaiser Bengali (@kaiserbengali) November 1, 2022
ڈاکٹر قیصر بنگالی نےمزید لکھا کہ ٹریکٹر بھی درآمد کیے جائیں گے، اگر وہ کم قیمت بھی ہوئے تو بھی ان کیلیے ڈالرز درکار ہوں گے، وہ کہاں سے آئیں گے؟کیا مزید قرضہ لیا جائے گا؟
ECNEC has approved US$11.3 billion CPEC projects. What are they? How are they to be financed? Loan or FDI? What terms of either? To what extent they will add to debt burden now n in future? All Agreements must be placed before Senate for debate prior to signing on.
— Dr. Kaiser Bengali (@kaiserbengali) November 1, 2022
ڈاکٹر قیصربنگالی نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھاکہ ایکنک نے 11.3 ارب ڈالر کے سی پیک منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ وہ کون سے منصوبے ہیں؟ ان کی مالی اعانت کیسے کی جائے گی؟ قرض یابراہ راست غیرملکی سرمایہ کاری؟ دونوں کی کون سی شرائط ہوں گی؟ وہ مستقبل میں قرضوں کے بوجھ میں کس حد تک اضافہ کریں گے؟ تمام معاہدوں پر دستخط کرنے سے پہلے بحث کے لیے سینیٹ کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔









