ڈالر ذخیرہ کرنے والے معیشت کو تباہ اور ناپائیدار کررہے ہیں، اسد علی شاہ
بینک اپنے صارفین کو مطلع کر رہے ہیں کہ اب بین الاقوامی ادائیگیاں اوپن مارکیٹ کے ذریعے طے کی جائیں گی، ماہر اقتصادیات

ماہر اقتصادیات اور سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے فرزند اسد علی شاہ نے ملک کی معاشی صورتحال اور ڈالر کی ذخیرہ اندوزی پر تشویش کا اظہار کردیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ ڈالر ذخیرہ کرنے والے معیشت کو تباہ اور ناپائیدار کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
بینکوں کا استثنیٰ کے باوجود خوردنی تیل کی درآمد کیلیے ایل سیز جاری کرنے سے انکار
جنوری کے پہلے ہفتے میں مہنگائی گزشتہ سال کے نسبت 30 فیصد بڑھ گئی
اسد علی شاہ نے اپنے ٹوئٹر تھریڈ میں لکھاکہ”ڈالر کے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ کے درمیان بہت بڑا اور غیر پائیدار فرق بدستور موجود ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے“۔
2. For over one week, customers receiving messages tht settlements will now be through open markt.
Difference bet interbank & markt now gone up to Rs 35/38. $ Interbank rate arnd Rs.227 & market rate Rs. 262 to 265 – ppl hoarding dollars, killing economy- unsustainable
2/2— Asad Ali Shah (@Asad_Ashah) January 6, 2023
انہوں نے کہاکہ”بینک اپنے صارفین کو مطلع کر رہے ہیں کہ اب بین الاقوامی ادائیگیاں اوپن مارکیٹ کے ذریعے طے کی جائیں گی،ایک ہفتے سے زائد عرصے سے صارفین کو پیغامات موصول ہورہے ہیں کہ اب ادائیگاں اوپن مارکیٹ کے ذریعے کی جائیں گی“۔
انہوں نے مزید کہاکہ”انٹربینک اور مارکٹ کا فرق اب 35سے38 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ انٹربینک ریٹ 227 روپے اور مارکیٹ ریٹ روپے 262 سے 265 روپے ہوگیا ہے۔ڈالر جمع کرنے والے لوگ معیشت کو تباہ اور ناپائیدار کررہے ہیں“۔









