معاشی مشکلات سے نکلنے کے لیے ہمیں طویل مدتی پالیسیز اپنانا ہوں گی، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار
موبائل مینوفیکچرز ایسوسی کے اہم عہدیدار عامر اللہ والا نے کا کہنا ہے کہ ہم موبائل فون کی اپنی 95 فیصد ڈیمانڈ کو پورا کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار مخدوم سید مرتضیٰ محمود نے کہا کہ پاکستان کی ہنرمند سستی لیبر موبائل مینوفیکچرز کے لیے جوائنٹ وینچرز کا بہتر منافع بخش موقع ہے۔ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار کا زرمبادلہ کمانے کے لیے موبائل فون کے پرزوں کی مقامی طورپر تیاری پر زور دیا۔
وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار سید مرتضیٰ محمود نے ملک کے لیے زرمبادلہ کمانے کے لیے موبائل فون کے پرزوں کی مقامی طور پر تیاری، سستی لیبر کی پیداواری صلاحیت سے استفادے اور برآمدی ہدف پورے کرنے پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اسٹاک میں زبردست تیزی کے باوجود ڈالر کی اونچی اڑان کا سلسلہ جاری رہا
درآمدی بل بچانے کیلئے کیا گیا بریک ڈاؤن، معیشت کو 80 ارب روپے میں پڑا
وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار آج یہاں ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ بارے اعلیٰ سطح کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس بے پناہ صلاحیت ہے جسے ملکی ترقی کے لیے زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج جس صورتحال کا سامنا ہے اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ طویل مدتی پالیسیز ہی ہمیں اس صورت حال سے نکلنے میں مدد کر سکتی ہیں۔
وفاقی وزیر نے موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ سیکٹر پر زور دیا کہ وہ اس سمٹ سے موبائل فون ڈیوائسز اور اس سے منسلک آلات جیسے لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹس کی مسابقت کو بڑھا کر موبائل فون کی برآمد کو ہدف بنائیں۔
موبائل مینوفیکچرز ایسوسی کے اہم عہدیدار عامر اللہ والا نے کا کہا کہ ہم موبائل فون کی اپنی 95 فیصد ڈیمانڈ کو پورا کر رہے ہیں، ہم بہترین موبائل اسمبلر ہیں، ہم نے 40 ہزار روزگار کے مواقع دیے، اب تک 31 مینوفیکچرنگ پلانٹس پاکستان میں کام کر رہے ہیں، ویت نام کی موبائل ایکسورٹ 57 ارب ڈالر ہے ، دیگر ممالک کی موبائل ایکسپورٹ ڈبل ہو رہی ہے۔
عامر اللہ والا کا کہنا تھاکہ لوگ موبائل انڈسٹری میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں پالیسیز کا تسلسل چاہیے، چائنیز انڈسٹری لوکل پارٹس مینوفیکچرنگ کیلئے پاکستان میں آنے کو تیار ہے، سی پیک فیز ٹو کیلئے موبائل انڈسٹری بہترین ہے۔
عامر اللہ والا نے کہا کہ ہمیں ایکسپورٹ کیلئے سیاسی استحکام اور پالیسیز کے تسلسل کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ چین میں ہنرمند لیبر کی ماہانہ لاگت 700 ڈالر ہے، پاکستان میں ہنرمند لیبر کی ماہانہ لاگت 150 ڈالر ہے، پاکستان سستی لیبر کی وجہ سے موبائل انڈسٹری میں بےپناہ گنجائش رکھتا یے۔









