بپی لہری نے امریکی ریپر ڈاکٹر ڈرے پر مقدمہ کیوں کیا؟

بھارتی موسیقااور گلوکار بپی لہری اپنے گانوں اور دھنوں کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ اپنے قانونی جنگوں کے حوالے سے بھی خاصے مشہور تھے۔
گزشتہ روز انتقال کرجانے والے بھارتی موسیقار بپی لہری نے اپنی فنی کیریئر کے دوران بڑے بڑے مغربی موسیقاروں کو قانونی جنگ کے ذریعے زیر کیا اور معافی مانگنے پر مجبور کیا۔
یہ بھی پڑھیے
بھارتی گلوکار و موسیقار بپی لہری 69 برس کی عمر میں چل بسے
شائستہ کا نادیہ پر جان بوجھ کر شرمیلا کی والدہ سے شرارت کرنیکا الزام
بپی لہری کی جانب سے دائر کیے گئے ایسے ہی ایک کاپی رائٹ کیس کا سامنا امریکی ریپر اور پروڈیوسر اینڈرے رومیل ینگ عرف ڈاکٹر ڈرے کو بھی کرنا پڑا تھا۔
Bappi Lahiri once sued Dr. Dre/Aftermath/Interscope/Universal, for violating copyright by unauthorisedly using tunes/vocals from Bappi’s "Thoda Resham Lagta Hai” in their song "Addictive” in the album Truthfully Speaking by Truth Hurts
— vikas (@slimkedi) February 16, 2022
ڈاکٹر ڈرے نے بپی لہری کے گانے کلیوں کا چمن کے بول”تھوڑا ریشم لگتا ہے “کو من و عن اپنے گانے ایڈکٹو ((Addictive کا حصہ بنایا تھا۔بپی لہری نے ڈاکٹر ڈرے پر ثقافتی سامراجیت کا الزام عائدکرتے ہوئے ان کیخلاف لاس اینجلس کی عدالت میں کاپی رائٹ کیس فائل کردیا تھا۔
Link to the Dre produced song which lifted Bappi Lahiri/Lata Mangeshkar’s song- https://t.co/eKUduhAzNe
— vikas (@slimkedi) February 16, 2022
پبی لہری کا موقف تھا کہ ڈاکٹر ڈرے نے رائلٹی ادا کیے بغیر یا اصل فنکاروں کو کوئی کریڈٹ دیے بغیر ایک مشہور زمانہ گیت کے بول اور دھن کو چوری کیا ہے۔ بھارتی موسیقار نے لاس اینجلس کی عدالت سے ڈاکٹر ڈرے کے البم کی فروخت روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔
عدالت نے بھارتی موسیقار کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئےانہیں کریڈٹ دینے جانے تک ڈاکٹر ڈرے کے البم کی فروخت پر پابندی عائد کردی تھی۔









