آئی ایم ایف سے مذاکرات:خواجہ آصف نےمفتاح اسماعیل کیلیے مشکل کھڑی کردی

وزیردفاع کا آئی ایم ایف کے مطالبے پر منظور کردہ اسٹیٹ بینک قانون ختم کرنے کاعندیہ، گورنر اسٹیٹ بینک کی مدت ملازمت میں اضافے سے بھی انکار،پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات ناکام ہونے کا خدشہ

وزیردفاع خواجہ آصف نے آئی ایم ایف سے مذاکرات شروع ہونے سے قبل ہی مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کیلیے بڑی مشکل کھڑی کردی ۔ کہتے ہیں کہ عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کی خودمختاری کا سودا کیا،  ہم اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کے قانون کو ریورس کریں گے کیونکہ اسٹیٹ بینک کا کنٹرول آئی ایم ایف کے پاس جاچکا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ گورنر اسٹیٹ بینک ریٹائر ہونے والے ہیں ، ان کی خدمات مزید درکار نہیں ۔

یہ بھی پڑھیے

محکمہ لائیو اسٹاک خیبر پختون خوا میں اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف

مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف یاترا سے قبل ہاتھ کھڑے کردیئے

واضح رہے کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے مذاکرات کے لیے واشنگٹن پہنچ گئے ہیں جو 24 اپریل تک جاری رہے گا۔

گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) رضا باقر پہلے ہی عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ بات چیت کے لیے لندن میں ہیں اور مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں فنڈ 1 بلین امریکی ڈالر کی قسط جاری کرے گا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ وہ اب بھی مانتے ہیں کہ پچھلی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے جن قوانین میں ترمیم کی تھی وہ اب بھی غلط ہیں اور انہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔

 وزیر دفاع نے کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کی معاشی خودمختاری کو امریکا کے ہاتھوں بیچ دیا ہے کیونکہ عالمی مالیاتی فنڈ میں سب سے زیادہ حصص واشنگٹن کے ہیں۔ ئی ایم ایف ایک ایسا ادارہ ہے جس میں امریکا کے  بہت زیادہ حصص ہیں کیونکہ یہ سب سے بڑا شیئر ہولڈر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہماری معاشی خودمختاری ان کے ہاتھ بیچ دی کیونکہ انہوں نے ہمارا مرکزی بینک  اور  ہمارا آخری سہارا  آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ اتحادی حکومت اس اقدام کو واپس لے گی اور پاکستان کی معاشی خودمختاری کو بحال کرے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ مانیٹری پالیسی کے حوالے سے مرکزی بینک کو آزادی دی جائے گی۔

میزبان حامد میر نے وزیردفاع سے استفسار کیا کہ کیا وہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ اپنے تحفظات کا اظہار کریں گے تو انہوں نے کہاکہ وہ ضرور ایسا کریں گے۔

 وزیر دفاع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر اپنی مقررہ تاریخ کو ریٹائر ہو جائیں گے اور حکومت کا انہیں برقرار رکھنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی مدت ختم ہونے والی ہے اور ہم انہیں برقرار نہیں رکھیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیردفاع کے بیان سے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں شریک مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو مشکلات پیش آسکتی ہیں کیونکہ اسٹیٹ  بینک کی خودمختاری کا قانون آئی ایم ایف کے مطالبے پر ہی منظورکروایا گیا تھا۔

متعلقہ تحاریر