ڈیلی میل نے شہبازشریف سے صرف ایک الزام پر معافی مانگی، آؤٹ آف کورڈ سیٹلمنٹ کا امکان

اخبار نے شریف خاندان کے برطانوی اکاؤنٹس میں پاکستان سے رقم موصول ہونے  اور وزیراعظم کے داماد پر عائد کردہ الزامات واپس نہیں لیے، تمام الزامات واپس لیے جانے کی صورت میں اخبار کو ہرجانہ ادا کرنا پڑتا

برطانوی اخبار ڈیلی میل نے وزیراعظم شہبازشریف سے صرف زلزلہ متاثرین کیلیے ڈی ایف آئی ڈی کے فنڈز میں غبن کے الزام پر معافی مانگی ہے۔

شہبازشریف کے خاندان اور ان کے داماد پر عائدہ کردہ دیگر الزامات اپنی جگہ موجود ہیں۔ تمام الزامات پر معافی مانگنے کی صورت میں اخبار کو شریف خاندان کوہرجانہ ادا کرنا پڑتا۔

یہ بھی پڑھیے

ڈیلی میل کے خلاف مقدمہ ، وزیر اعظم شہباز شریف کو لینے کے دینے پڑ گئے

ڈیلی میل شہبازشریف کیخلاف الزامات پرقائم،عدالت میں جواب جمع کرادیا

پرطانوی اخبار میں  2019 میں زلزلہ متاثرین کے لیے محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈی ایف آئی ڈی) کے فنڈز کے غبن سے متعلق مضمون پر وزیر اعظم شہباز شریف سے معافی مانگنے کے بعد فریقین کے درمیان عدالت سے باہر تصفیہ کا امکان ہے۔

ڈیلی میل نے جمعرات کو اپنے وضاحتی نوٹ میں لکھاکہ” شہباز شریف کے بارے میں ایک مضمون بعنوان”کیا برطانوی سمند پار امداد کے لیے پوسٹر بوائے بننے والے پاکستانی سیاستدان کے خاندان نے زلزلہ متاثرین کے فنڈز میں بن کیا؟ “ 14 جولائی 2019 کو شائع ہوا تھا۔

اخبارکے مطابق ”پاکستان کے قومی احتساب بیورو کی جانب سے   شہبازشریف کے بارے میں کی گئی تحقیقات کی اطلاع دی گئی اور تجویز پیش کی گئی کہ زیر تفتیش رقم میں برطانوی عوام کی رقم کی وہ غیر معمولی رقم شامل ہے جو ڈی ایف آئی ڈی کی گرانٹ امداد میں صوبہ پنجاب کو ادا کی گئی تھی“۔

اخبار کا کہنا ہے کہ”ہم قبول کرتے ہیں کہ شہبازشریف پر نیب نے کبھی بھی برطانوی پبلک منی یا ڈی ایف آئی ڈی گرانٹ   کے سلسلے میں کسی غلط کام کا الزام نہیں لگایا۔ ہمیں یہ واضح کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے اور اس غلطی کے لیے شہبازشریف سے معذرت خواہ ہیں“۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے صحافی اور بلاگر عرفان ہاشمی نے برطانیہ میں ہونے والی نئی پیش رفت کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ برطانوی اخبار  نے شریف خاندان کے خلاف لگائے گئے الزامات کو مکمل طور پر واپس نہیں لیا۔

عرفان ہاشمی نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈیلی میل نے صرف یہ تسلیم کیا ہے کہ   شہباز شریف کے خلاف2019 میں متاثرین زلزلہ کے  فنڈز میں خورد برد کا کوئی کیس نہیں ہے۔  انہوں  نے مزید کہا کہ اب تک نہ شہباز شریف اور نہ ہی ان کے داماد علی عمران یوسف نے برطانوی عدالت میں اپنے جوابات جمع کرائے ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنما اور سابق مشیر احتساب شہزاد اکبرنے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ” ڈیلی میل نے کہا  ہےکہ چونکہ نیب نے شہباز شریف کو برطانوی حکومت یا اسکے ادارےڈی ایف آئی ڈی کے مال کو خورد بردکرنے کے الزام پہ چارج نہیں کیا لہٰذا ادارہ اس الزام کی حد تک معذرت خواہ ہے اور تصحیح کرتا ہے“۔

شہزاد اکبر نے مزید لکھاکہ یہ مقدمے کی سیٹلمنٹ لگتی ہے جب نیب ہی لیٹ گیا،این آر او 2ہوگیا تو ایک ڈیلی میل کیا کرتا؟انہوں نے مزید کہاکہ”ویسے خبر یہ ہے کہ شہباز شریف نے پچھلے ہفتے عدالت کی طرف سے عائد کردہ جرمانہ بھی ادا کر دیا ہے اب کوئی ان سے اس بات کی تصدیق کرلے“۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہےکہ برطانیہ میں ہونے والی نئی پیش رفت شریف خاندان اور ڈیلی میل میں آؤٹ آف کورٹ سیٹملمنٹ کی نشاندہی کررہی ہے۔امکان ہے کہ معاملہ فریقین کے درمیان معاملہ طے پا جائے گا کیونکہ اخبار نے اپنے الزامات کو مکمل طور پر واپس نہیں لیا بصورت دیگر اسے برطانوی عدالت سے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

متعلقہ تحاریر