ملک ادویہ کا بحران سنگین ہوگیا، کراچی میں جعلی ادویہ کی بھرمار
روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی کے باعث دوا ساز اداروں کا قیمتوں میں 38 فیصد اضافے کا مطالبہ حکومت نے مسترد کردیا، تاجروں نے دواؤں کی درآمد انتہائی محدود کردی، کراچی کے بڑے اسٹورز پر جعلی ادویہ ملنے کا انکشاف، کئی مریض متاثر ہوکر اسپتال جاپہنچے

ادویہ سازی کی صنعت اور وزارت صحت کے درمیان قیمتوں کے بڑھتے ہوئے تنازع کے نتیجے میں پاکستان میں اہم ادویہ کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
ادویہ کی قلت کےباعث مریض زائد قیمتوں پر اسمگل شدہ اور ممکنہ طور پر جعلی ادویہ استعمال کرنے پرمجبور ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں مریضوں کی طبیعت بگڑنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ملک میں رواں سال کا پہلا پولیو کیس سامنے آگیا
الیکشن قریب آتے ہی کرونا سراٹھانے لگا، 30اپریل تک ماسک کی پابندی کی ہدایات جاری
حالیہ برسوں میں آسمان کو چھوتی مہنگائی اور روپے کی بے قدری سے پیداواری لاگت بڑھنے کے پیش نظر ادویہ ساز صنعت نے ادویہ کی قیمتوں میں 38 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے ۔تاہم حکومت نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو یا تو بہت سی ضروری اور غیر ضروری ادویات کی محدود پیمانے پر پیداوار کو روکنے یا شروع کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
زخموں پر نمک ڈالتے ہوئے درآمد کنندگان نے جنرل اینستھیزیا سے متعلق تقریباً 100 اہم ادویہ، پلازما سے تیار کردہ مصنوعات، ویکسین، آنکولوجی اور حیاتیاتی مصنوعات کی درآمد روک دی ہے یا ان میں زبردست کمی کر دی ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں ادویات کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔
پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار عبدالصمد نے حکومتی قانون کا حوالہ دیتے ہوئےترک میڈیا کو بتایا کہ ان میں سے کچھ ادویات یا تو درآمد نہیں کی جا رہیں یا محدود پیمانے پر صرف قانونی پابندی کی وجہ سے مارکیٹ میں دستیاب ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ زیادہ تر درآمد کنندگان آج کل اپنے لائسنس کو برقرار رکھنے کے لیے درجنوں ضروری اور غیر ضروری ادویات کی کم از کم مقدار درآمد کر رہے ہیں ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بے پناہ کمی کی وجہ سے یہ کاروبار ان کے لیے منافع بخش نہیں رہا۔
عبدالصمد نے کرونا وائرس کی وبا اور روس یوکرین جنگ کو بین الاقوامی منڈی میں ادویہ کی قیمتوں میں اضافے اورعالمی مہنگائی کی اہم وجہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب کراچی میں دواؤں کی قیمت میں اضافے اور قلت کے باعث جعلی ادویہ کی بھرمار ہوگئی۔ بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹورز پر دستیاب ادویہ بھی جعلی ثابت ہورہی ہیں۔
نیوز 360 کو دستیاب معلومات کے مطابق جعلی ادویہ کے استعمال سے شدید متاثر ہوکر کئی مریض اسپتال پہنچ چکے ہیں۔جعلی ادویہ کے باعث صحت کے سنگین مسائل سے دوچار ہونے والے د ماغی عارضے اور گردے کے مرض میں مبتلاکم ازکم 2 مریضوں کے رشتیداروں نے نیوز 360 سے رابطہ کیا ہے۔
دونوں مریضوں کے رشتیداروں کے مطابق ڈاکٹرزکا کہنا ہے کہ مریضوں کی طبیعت بگڑنے کی بنیادی وجہ جعلی اوویہ کا استعمال ہے۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ مارکیٹ میں جعلی ادویہ کی بھرمار کے باعث دواؤں کا غیر ضروری استعمال ترک کردیا جائے اور صرف انتہائی ضرورت کے وقت ہی مستند میڈیکل اسٹورز یا اسپتالوں سے دوائیں خرید کر استعمال کی جائیں۔









