2018کے انتخابات کے وقت فیصل واوڈا دہری شہریت کے حامل تھے، وکیل کا بیان

ایڈووکیٹ وسیم سجاد کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کے فیصلے کا اطلاق رکن اسمبلی پر ہوتا ہے سینیٹر پر نہیں ہوتا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف درخواست پر سماعت، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی۔ فیصل واوڈا کے وکیل وسیم سجاد نے عدالت کے سامنے پیش ہو کر دلائل دیئے۔ عدالت نے کیس قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔

الیکشن کمیشن کی جانب دہری شہریت کیس میں فیصل واوڈا کو تاحیات نااہل قرار دیئے جانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی۔

فیصل واوڈا کے وکیل وسیم سجاد کا دوران سماعت دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ الیکشن کمیشن نے 62 ون ایف کے تحت قومی اسمبلی کی نشست پر فیصلہ سنایا۔

یہ بھی پڑھیے

بانی متحدہ الزامات سے بری، برطانیہ کی عدالت کا فیصلہ مذاق بن گیا

توہین عدالت کیس، رانا محمد شمیم کو بیان حلفی جمع کرانے کا آخری موقع

وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا کی جانب سے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی قومی اسمبلی کے تھے، جبکہ فیصل واوڈا اسمبلی کی نشست چھوڑ کر سینیٹر بن چکے تھے، الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں کہ وہ نااہلی کا آرڈر جاری کرے، الیکشن کمیشن کوئی کورٹ آف لاء نہیں ہے، اور نہ ہی الیکشن کمیشن 62ون ایف کے تحت فیصلہ نہیں دے سکتا۔

ایڈووکیٹ وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے ہیں کہ الیکشن کمیشن ایسا فیصلہ نہیں کرسکتا۔

ایڈووکیٹ وسیم سجاد کے دلائل پر ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا فیصل واوڈا نے سپریم کورٹ احکامات کی روشنی میں بیان حلفی جمع کرایا، آپ تکنیکی بنیادوں پر بات کررہے ہیں، کیس 3 سال سے چل رہا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے وکیل سے سوال کیا آپ صرف یہ بتائیں الیکشن کمیشن نے حقائق کی کیا خلاف ورزی کی؟ سپریم کورٹ نے کہا تھا بیان حلفی کسی بھی وقت غلط نکلا تو نتائج بھگتنا ہونگے۔

عدالت کا کہنا تھا کیا فیصل واوڈا نے نیک نیتی ثابت کی کہ انہوں نے جھوٹا بیان حلفی نہیں دیا؟ فیصل واوڈا نے جس ملک کی شہریت چھوڑی تھی اسکا سرٹیفکیٹ لگا دیتے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ کا فیصلہ تھا کہ بیان حلفی جمع کرانے ہیں، الیکشن کمیشن فیصلے کو ماننے کا پابند ہے اور ہم بھی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا پوچھا کہ بیان حلفی جھوٹا تھا یا سچا کیا الیکشن کمیشن معاملہ سپریم کورٹ بھیجتا؟ یہ عدالت ہمیشہ منتخب نمائندوں کے کیسز لینے سے گریز کرتی ہے، یہاں معاملہ سپریم کورٹ کے 5رکنی بنچ کے فیصلے پر عمل کا ہے۔

وکیل فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کیا الیکشن کمیشن 62ون ایف کے تحت نااہل کرسکتا ہے؟

عدالت کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ بھی اس سے متعلق موجود ہے، مگر یہ کیس سپریم کورٹ کے ہی ایک اور فیصلے پر عمل کا ہے، اُسی فیصلے میں تھا کہ جھوٹا بیان حلفی سپریم کورٹ کی توہین کے مترادف ہوگا

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن میں نیک نیتی ثابت کرنا تھی، الیکشن کمیشن اس نتیجے پر پہنچا کہ بیان حلفی جھوٹا ہے تو پھر کیا کرتا؟ سپریم کورٹ نے پہلے کہہ رکھا تھا کہ جھوٹے بیان حلفی کے نتائج ہوں گے۔

اس پر ایڈووکیٹ وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ نتائج کا لکھا تھا، وہ نتائج قانون کے دائرے میں ہی رہ کر ہونے ہیں، قانون کا دائرہ خود سپریم کورٹ نے بتایا کہ کمیشن ایسا آرڈر نہیں دے سکتا، فیصل واوڈا نے منسوخ پاسپورٹ بھی دکھا دیا تھا۔

وسیم سجاد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ 4 دن کیلئے کوئی کیوں جھوٹ بولے گا؟ جرم دکھانے کیلئے اسکا مقصد بھی دکھایا جاتا ہے۔

اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کسی مرحلے پر فیصل واوڈا نے شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ دیا؟۔

وکیل کا کہنا تھا فیصل واوڈا نے وہ سرٹیفکیٹ نہیں دیا تھا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت عظمیٰ نے اس قبل جھوٹے بیان حلفی کو سپریم کورٹ کی توہین قرار دیا تھا۔

ایڈووکیٹ وسیم سجاد کا کہنا تھا سپریم کورٹ نے فیصلے میں توہین عدالت کے الفاظ نہیں لکھے۔

وسیم سجاد کا کہنا تھا سیاست دان کے لیے تاحیات نااہلی "سزائے موت” ہے۔

اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا لیکن یہ سزائے موت بہت سے دوسرے سیاست دانوں کو مل چکی ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ آپ یہاں پٹیشن لائے اگر ہم انہیں نااہل کر دیں تو پھر؟

وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ یہ عدالت وہی کیس سن رہی ہوتی تو کرسکتی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اب تو آپ پٹیشن لائے ہیں اس عدالت کا اختیار بھی ہے۔

فیصل واوڈا کے وکیل کا کہنا تھا کیس کسی ٹریبونل میں جائے تو شواہد دیکھے جائیں گے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس میں کن شواہد کی ضرورت ہے؟ ساری ذمہ داری تو فیصل واوڈا کی تھی، دکھا دیتے کہ سپریم کورٹ احکامات کی خلاف ورزی نہیں کی، کیا فیصل واوڈا کل ہمیں دوسری شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ دے سکتے ہیں؟

متعلقہ تحاریر