خواتین سربراہان کی کمپنیاں پدر شاہانہ کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ دیتی ہیں، تحقیق
کرونا وبا کے بعد خواتین کو برطانوی معیشت کی بحالی میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے،برطانوی ایوان نمائندگان کا تحقیق کی بنیاد پر مطالبہ

برطانوی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین سربراہان کی کمپنیاں پدر شاہانہ کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ دیتی ہیں۔ برطانوی ایوان نمائندگان نے تحقیق کے شواہد کی بنیاد پر مطالبہ کیا ہے کہ کرونا وبا کے بعد خواتین کو برطانوی معیشت کی بحالی میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔
ایوان نمائندگان کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پدر شاہانہ اداروں کے مقابلے میں خواتین سربراہان کی کمپنیاں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
یورپی باشندوں نے جنگ زدہ یوکرینی عوام کی مدد کا نیا طریقہ نکال لیا
بچے کی پیدائش پر باپ کو 3 دن کی چھٹی دی جائے، پوپ فرانسس کا حکم
برطانوی شیڈو سیکریٹری برائے خواتین و مساوات اینیلیز ڈوڈس نے حکومت پر کرونا وبا کے دوران خواتین کی ضرورتوں کو نظرانداز کرنے اور بحالی کے منصوبوں میں انہیں پس پشت ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین ایک مضبوط معیشت کی کلید رکھتی ہیں لیکن ملک کے کچھ حصوں میں سرمایہ کاری کی کمی اور بچوں کی دیکھ بھال کے نام پرانہیں روکا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب آپ کو خواتین سے زیادہ شراکت ملتی ہے اور جب خواتین ڈرائیونگ سیٹ پر اس حد تک ہوتی ہیں جس حد تک انہیں ہونا چاہیے، تو اس سے کاروبار اور زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظات اور مساوات کے دیگر مسائل پر غور کرنا شروع سے ہی ہمارا عزم ہے، موجودہ حکومت کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ خواتین کے تحفظات کو آخر تک حل نہیں کر رہی ، وہ ان پر بالکل توجہ نہیں دے رہی۔
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر لیبر نے ہاؤس آف کامنز کی لائبریری سے ڈیٹا اکٹھا کیا ہے جس میں میک کنسے کی تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صنفی تنوع کی حامل ایگزیکٹو ٹیموں والی اعلیٰ درجے کی کمپنیوں میں نچلی کمپنیوں کے مقابلے میں اوسط سے زیادہ منافع حاصل کرنے کا امکان 25 فیصد زیادہ تھا۔
گلاسگو اور لیسٹر یونیورسٹیوں کے ماہرین تعلیم کی تحقیق کے مطابق 30 فیصد سے زیادہ خواتین ایگزیکٹوزوالی کمپنیاں ان کمپنیوں کو پیچھے چھوڑنے کا زیادہ امکان رکھتی ہیں جو ایسا نہیں کرتی ہیں۔









