عمران خان کی مبینہ اے ٹی ایم ن لیگ کی گود میں جانے کو تیار

نیوز 360 کے ذرائع کی اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنما علیم خان اپنے گروپ کے ساتھ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے جارہے ہیں۔ اور یہ اعلان جلد متوقع ہے۔

سیاست میں کوئی بھی چیز حرف آخر نہیں ہوتی خاص طور پرپاکستانی سیاست میں ۔ پاکستان کی لیڈنگ چینل کی اسٹوری کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سینئر ترین رہنما علیم خان عرف مبینہ اے ٹی ایم نے لندن میں مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔

نیوز چینل کے لندن کے رپورٹر مرتضیٰ علی شاہ کی رپورٹ کے مطابق علیم خان نے نواز شریف کے ساتھ تین گھنٹے تک ملاقات کی جس میں ملک کی سیاست صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کو ناکوں چنے چبوادیں گے ، شہباز شریف اور فضل الرحمان کی دھمکی

وزیراعظم ڈرائنگ روم کی سیاست کیساتھ عوامی سیاست کے محاذ پربھی سرگرم

ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور علیم خان کی تین گھنٹے کی ملاقات میں ، پی ٹی آئی کے رہنما نے گذشتہ تین سالوں میں ان کے ساتھ کیا کچھ ہوا وہ سب کچھ بتایا۔

نیوز 360 کے ذرائع کی اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنما علیم خان اپنے گروپ کے ساتھ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے جارہے ہیں۔ اور یہ اعلان جلد متوقع ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملاقات میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور پنجاب میں تبدیل ہوتی سیاسی صورتحال پر بھی ہوئی، نواز شریف نے باقاعدہ علیم خان کو ن لیگ میں شمولیت کی دعوت دی ۔

دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی کے رائٹ ہینڈ جہانگیر ترین اپنے گروپ کو لے کر الگ بیٹھے ہوئے ہیں، تاہم اندر خانے کی اطلاعات کے مطابق ان کی میاں نواز شریف سے بات چیت چل رہی ہے اور وہ جلد اپنے گروپ کے ساتھ ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کریں گے ۔

کل تک نواز شریف ، شہباز شریف اور مریم نواز ، علیم خان اور جہانگیر ترین کو عمران خان کی اے ٹی ایم مشنیں کہتے رہے ۔ ان کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ عمران خان کے دائیں بائیں اے ٹی ایم کھڑی ہوتی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کل تک علیم خان اور جہانگیر ترین کو میبنہ طور پر وزیراعظم عمران خان کی اے ٹی ایم مشینیں کہہ کر پکارتی تھی مگر آج وہ اے ٹی ایم مشینیں میاں نواز شریف سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے یہ بات سوچنے کی ہے کہ جیسے جیسے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا دن قریب آتا جارہا ہے ویسے ویسے ہواؤں کا رخ تبدیل دکھائی دے رہا ہے او ر سیاسی درجہ حرات میں تیزی آتی جارہی ہے۔ اسلام آباد کے پارلیمنٹ لاجز میں پیش آنے والے واقعے کے بعد لفظوں کی ایک نئی جنگ چھڑ گئی ہے۔ گزشتہ دو سے تین روز میں وزیراعظم عمران خان کے لہجے میں تلخی آتی جارہی ہے وہ اپوزیشن پر تابڑ توڑ حملےکررہے ہیں اور غیرشائستہ زبان بھی استعمال کررہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے خلاف وزیراعظم کو نئی حکمت علمی اپنانی چاہیے اور لفظی گولہ باری سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ وزیراعظم کا یہ اسٹیٹس نہیں کہ وہ غیرمہذب زبان کا استعمال کریں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کل تک نواز شریف ، شہباز اور مریم نواز جنہیں عمران خان کی اے ٹی ایم مشینیں کہا کرتے تھے آج انہیں اپنے ساتھ ملانے کو تیار ہیں ، تاہم یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اب اے ٹی ایم کس کے لیے کیش پروڈیوس کرتی ہیں۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

متعلقہ تحاریر