لڑکا لڑکی پر جنسی تشدد کا کیس:عثمان مرزا سمیت5ملزموں کو عمر قید

اسلام آباد کی سیشن عدالت نے سیکٹر ای 11 میں پیش آئے واقعے کا کیس 5ماہ میں مکمل کرکے فیصلہ سنادیا، لڑکا لڑکی پر جنسی تشدد کی ویڈیو 6جولائی2021 کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کیس شروع ہوا تھا

اسلام آباد کی سیشن عدالت نے سیکٹر ای الیون میں لڑکے لڑکی پر جنسی تشد کے کیس کا فیصلہ سنادیا۔عدالت نے مرکزی ملزم  عثمان مرزا سمیت 5 ملزمان کو عمر قید  کی سزا سنادی۔

ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے کیس کا محفوظ فیصلہ سنا تے ہوئے 2 ملزمان کو بری کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

عثمان مرزا کیس مذاق بن گیا:متاثرہ جوڑے کا خود کوپہچاننے سے بھی انکار

عثمان مرزا کی نس بندی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

سزا پانے والوں میں  عثمان مرزا ، ادارس قیوم بٹ ، محب خان بنگش ، حافظ عطا الرحمن  اور فرحان شاہین شامل ہیں۔

ملزمان کو الگ الگ عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ ملزم فرحان شاہین نے عدالت میں موقف اپنایا کہ میں ویڈیو میں نہیں ہوں ، نہ ہی  میرے واقعے سے کوئی تعلق ہے، ملزم حافظ عطا الرحمان نے کہا کہ  میرا واقعے سے تعلق نہیں صرف عثمان مرزا جاننے والا ہے۔جج نے ریمارکس دیے کہ آپ کے  حافظ ہونے کا فائدہ کیا ؟ کیا آپ نے آج تک اس سے متعلق پولیس کو بتایا ؟

مرکزی ملزم کوعدالت کے سامنے پیش  کیا گیا تو عدالت نے استفسار کیا کہ  کیا مسئلہ تھا ؟ ملزم عثمان نے بتایا کہ مجھے ویڈیو کا علم ہی نہیں ۔جج عطا ربانی  نے کہا کہ  اس وقت تو آپ ان کے منہ پکڑ پکڑ کر کیمرے کے سامنے کر رہے تھے، یہ میری ویڈیو نہیں میرے مخالف کا کام ہے۔

 کیس کا اسپیڈی ٹرائل ساڑھے 5 ماہ میں مکمل ہوا ۔ مرکزی ملزم عثمان سمیت 7ملزمان پر28 ستمبر 2021 کو فرد جرم عائدکی گئی تھی ۔6جولائی2021 کو ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کیس شروع ہوا تھا۔

وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے عثمان مرزا کیس میں ملزمان کو سزائیں ملنے پر خوشی کااظہار کیا ہے۔

فواد چوہدری  نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ عثمان مرزا کیس میں متاثرہ لڑکی اور نوجوان کے منحرف ہونے کے باوجود عمر قید کی سزا جد ٹیکنالوجی کی بطور شہادت قبولیت کی انتہائی خوش آئند ہے، وہی معاشرے ترقی کا زینہ چڑھتےہیں جہاں انصاف ہو، انشاللہ سیالکوٹ اور دیگر مقدموں میں بھی انصاف کے قریب ہیں۔

متعلقہ تحاریر