اسلام آباد میں خصوصی افراد کے سرکاری مرکز میں طلبہ پر تشدد کا انکشاف
قوت گویائی و سماعت سے محروم طلبہ کو چھڑیوں اور چپلوں سے تشدد کانشانہ بنانے اور بال کھینچ کر نیند سے اٹھانے کی وڈیو وائرل،وزیر انسانی حقوق کا نوٹس، ملوث عملہ معطل، ڈی جی اسپیشل ایجوکیشن سے رپورٹ طلب

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9 میں خصوصی افراد کے مرکز میں قوت گویائی و سماعت سے محروم طلبہ پر تشدد کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
وزیر انسانی حقوق نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے طلبہ پر تشدد میں ملوث اہلکاروں کو معطل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ڈی جی اسپیشل ایجوکیشن سے رپورٹ طلب کرلی۔
یہ بھی پڑھیے
ایف نائن اجتماعی زیادتی کیس کے ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک
ایف 9 پارک زیادتی کیس کے ملزمان کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا، وکیل متاثرہ خاتون
وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایچ نائن میں وزارت انسانی حقوق کی جانب سے خصوصی افراد کیلیے قائم نیشنل اسپیشل ایجوکیشن سینٹر میں قوت گویائی و سماعت سے محروم طلبہ پر تشدد کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
وائرل وڈیو میں ادارے کےاہلکاروں کومختلف اوقات میں طلبہ پر چھڑی سے تشدد کرکے چھڑیاں توڑتے، سوئے طلبہ کو بال کھینچ کراور چپلیں مارکر اٹھاتے ہوئے دیکھاجاسکتا ہے۔
وزارت انسانی حقوق کے ٹوئٹر ہینڈل کے مطابق وفاقی وزیر انسانی حقوق ریاض حسین پیرزادہ نے طلبہ پر تشدد کانوٹس لیتے ہوئے واقعے میں ملوث اہلکاروں کیخلاف تادیبی کارروائی کا حکم دیدیا ۔
عملہ کے ملوث اراکان کو معطل کیا جا چکا ہے نیز ڈی جی ایس ای سے کل صبح حقائق پر مبنی رپورٹ طلب کر لی گئی ہے ۔
۲/۲— Ministry of Human Rights (@mohrpakistan) February 21, 2023
وزارت انسانی حقوق کے مطابق وزیر انسانی حقوق کے احکام پر طلبہ پر تشدد میں ملوث اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے جبکہ ڈی جی اسپیشل ایجوکیشن سے واقعے کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلی گئی ہے ۔









