سارہ ملک خودکشی کیس: اسپتال کی آڑ میں فحاشی کی سرگرمیاں جاری تھیں، پولیس

اسپتال کی آڑ میں فحاشی کی سرگرمیاں اور عیش و عشرت کا ماحول بنایا ہوا تھا، اسپتال میں ہر لڑکا لڑکی کی آپس میں دوستی تھی، ایس ایس پی انویسٹی گیشن زاہدہ پروین

کراچی کے ساحل پر مبینہ طور پر خودکشی کرنے والی سارہ ملک کے کیس میں تحقیقات کے دوران ڈیفنس کے ویٹرنری اسپتال سے متعلق نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن جنوبی زاہدہ پروین کے مطابق اسپتال کی آڑ میں فحاشی کی سرگرمیاں اور عیش و عشرت کا ماحول بنایا ہوا تھا، اسپتال میں ہر لڑکا لڑکی کی آپس میں دوستی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

سارہ ملک کی مبینہ خودکشی کے کیس میں شکوک و شبہات کے سائے مزید گہرے ہوگئے

سی یو پر لڑکی کی خودکشی کا معمہ حل، گرفتار ملزم کا زیادتی اور قتل کا اعتراف

ایس پی انوسٹی گیشن  جنوبی زاہدہ پروین نے سی ویو سمندر میں ڈوبنے والی خاتون سارہ ملک کےحوالے سے پریس کانفرنس میں کہا کہ  ملزمان نے اسپتال میں ایک عجیب ماحول بنایا ہو اتھا مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل ہے،ا سپتال کی آڑ میں فحاشی کی سرگرمیاںاور عیش و عشرت کا ماحول بنایا ہوا تھا۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے مزید بتایا کہ گرفتارملزم شان کے مطابق اسپتال میں کھلا ڈھلا ماحول تھا، ہر لڑکے لڑکی کی آپس میں دوستی تھی ، مقتولہ سارہ فزیو تھراپسٹ تھی مگر جانوروں کے لگاؤ کی وجہ سے یہاں ملازمت کی 2سال کے عرصے میں مقتولہ کو شان سلیم نے ایڈمن میں عہدہ دیا اور انکا ایک تعلق قائم ہوگیا اسپتال کے انتظامی امور سارہ ملک دیکھتی تھی ۔

انہوں نے بتایا کہ بسمہ کو پانچ سے چھ ماہ قبل ملازمت پر رکھا گیا  اور اس سے بھی شان کے تعلق قائم ہو گئے، بسمہ اور شان کو کمرے میں دیکھ کر سارہ دل برداشتہ ہوگئی تھی۔  سارہ غصے میں اپنا موبائل فون پھینک کر وہیں سے ناراض ہو کر چلی گئی باقی اسٹاف بھی شامل تفتیش ہے وجہ موت حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سامنے آئے گی۔  ملزم وقاص کا بھی مقتولہ سے تعلق تھا، لڑکی پر موت سے قبل کوئی جنسی تشدد بھی نہیں ہوا۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے مطابق  شان سلیم اعتراف کررہا ہے کہ اس کے پاس تمام چیزوں تک رسائی تھی۔ شان سلیم کے مطابق سارہ نے ایک بار منشیات بھی لی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ معلوم ہوا ہے کہ متوفیہ سارہ کی لاش دو روز پرانی نہیں ہے،اس کی آنکھوں اور ناک پر بھی تشدد کے نشانات ہیں، پولیس نے اسپتال کے مالک شان سلیم اور وقاص کو گرفتار کر لیا جبکہ بسمہ اب تک مفرور ہے، جس کی تلاش جاری ہے ،سارہ کی موت کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملزم شان سلیم نے اسپتال کا ڈیٹا اورکچھ سی سی ٹی وی بھی ضائع کیں، سارہ ملک کا موبائل فون بھی چھپا دیا گیا تھا، وقاص شان کا پاٹنر ہے اور اسپتال کو جانوروں کی فیڈ فراہم کر تاہے ، شان سلیم سے سارہ کے تعلق تھے، جس سے سارہ کو پیسے بھی د یے اور عہدہ بھی دیا گیا۔

 ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لاش پانی میں ڈوبی ہوئی نہیں تھی ،لڑکی کے جو کپڑے ملے وہ وہی تھے جو مددگار ون فائیو کو  کالر نے حلیے میں بتائے تھے۔ لڑکی کی شال تاحال نہیں ملی ہے، لڑکی مبینہ طور پر ساحل کنارے 15منٹ روتی بھی ر ہی، لڑکی نے کالر کو ڈانٹا بھی تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ  مددگار ون فائیو کوفون کرنے والا اپنے بیان پر قائم ہے ،کالر نے لڑکی کی ایک ویڈیو بھی بنائی جس میں اس کا سر بھی نظر آرہا تھا مگر پولیس کو اس کے شواہد نہیں ملے ،جمال نامی کالر کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے،والد نے جانوروں کے اسپتال کے ڈاکٹر، اسٹاف اور بسمہ کو نامزد کرایا ہے۔

 ڈاکٹر شان سلیم نے سی سی ٹی وی فوٹیجز ڈیلیٹ کی ہیں جس پر اسے گرفتار کیا گیا ،ریسپشنسٹ خاتون ارادھنا سے بھی تفتیش کی گئی ۔ شان سلیم نے بتایا کہ سارہ ملک کا موبائل فون اس نے چھپا دیا تھا ،شواہد مٹانے میں شان سلیم اور دوست وقاص براہ راست ملوث پائے گئے ۔

متعلقہ تحاریر