ملکی سطح پر اخلاقی اقدار کا تعین کرنا ناممکن ہے، احمد پنسوٹہ

خواتین کے روزمرہ کے مسائل پر ڈرامے نہیں بنتے لیکن ہمارے ریگولیٹر کو اس بات پر اعتراض ہو جاتا ہے کہ ڈرامے میں کون کس کے کتنے پاس بیٹھا ہے، احمد پنسوٹہ

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے ٹی وی چینلز کو ڈراموں کے کچھ مناظر پر اکثر نوٹسز بھیجے جاتے ہیں، کبھی کبھی تو جرمانہ بھی عائد ہو جاتا ہے یا مذکورہ ڈرامہ آف ایئر کردیا جاتا ہے۔

پی ٹی وی پر ایک پروگرام میں چیئرمین پیمرا کونسل آف کمپلینٹس (لاہور) احمد پنسوٹہ نے نہایت اہم جانب پیمرا کی توجہ مبذول کروائی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آسمان پر تھوکا منہ کو آتا ہے، علی عظمت کو کون سمجھائے

نجی ٹی وی چینلز نے پیمرا کا حکم نامہ ہوا میں اُڑا دیا

احمد پنسوٹہ کا کہنا ہے کہ کیا پاکستان میں ایک بھی ڈرامہ خواتین کو پیش آنے والے گھریلو تشدد کے واقعات پر بن رہا ہے؟ کیا جنسی ہراسگی جیسے موضوعات پر ڈراماز بن رہے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ خواتین کے روزمرہ کے مسائل پر ڈرامے نہیں بنتے لیکن ہمارے ریگولیٹر کو اس بات پر اعتراض ہو جاتا ہے کہ ڈرامے میں کون کس کے کتنے پاس بیٹھا ہے۔

احمد پنسوٹہ کہتے ہیں کہ آپ ڈرامے میں کرداروں کے درمیان فاصلے اور اٹھنے بیٹھنے کی جگہوں کا تعین نہیں کرسکتے، یہ غیرضروری پابندیاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ اخلاقی اقدار کی تعریف کرنے بیٹھیں تو ہر صوبے کی اقدار دوسرے سے مختلف ہیں، ایک صوبے میں جو چیز قابل قبول ہے وہ دوسرے صوبے میں ٹھیک نہیں سمجھی جاتی۔

احمد پنسوٹہ نے مزید کہا کہ چند ایک بنیادی باتیں ہیں جنہیں ہم بالکل بھی نہیں توڑ سکتے جیسا کہ اسلام کے خلاف، معاشرے کی بنیادی اقدار کے خلاف اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہم کوئی مواد نشر نہیں کرسکتے لیکن کوئی اتھارٹی یہ نہیں بتا سکتی کہ ٹی وی پر محبت کا اظہار کیسے دکھانا ہے وغیرہ۔

یہ قابل غور نکات احمد پنسوٹہ نے بیان کیے ہیں جو کہ وکیل، تجزیہ کار، کالمسٹ، ٹیچر اور لاہور میں پیمرا کے چیئرمین برائے کونسل آف کمپلینٹس ہیں۔

متعلقہ تحاریر