سابق فافن سربراہ کے الزامات کی تحقیقات کیلیے اداروں کو ہدایت کردی، فواد چوہدری
سنہ 2013 کے جنرل الیکشنز میں بہت مسائل تھے، نشاندہی کرنے والوں کے خلاف مقدمات بنا دئیے گئے، سرور باری

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کے سابق سیکرٹری جنرل سرور باری نے کہا ہے کہ سنہ 2013 کے جنرل الیکشنز میں بہت مسائل تھے، فافن کے رہنما کے خلاف ان مسائل کی نشاندہی پر 14 مقدمے درج کیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ 2013 الیکشن کے کئی فارم 14 سادہ کاغذ پر تھے اور متعدد پر غلط گنتی تھی، رہنما مسلم لیگ (ن) ایاز صادق کے حلقے میں کئی پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز ٹرن آؤٹ 100 فیصد سے زیادہ تھا، جب اس وقت کے فافن عہدیدار نے نشاندہی کی تو ان کے خلاف 14 مقدمات درج کردئیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے
شبلی فراز کا الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہیک کرنے پر 10لاکھ روپے انعام کا چیلنج
حزب اختلاف کا الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان
سرور باری کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن نے ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی (ٹی ڈی ای اے) کی گنتی کی بنیاد پر رپورٹ دی تھی، فافن کو ٹی ڈی ای اے سے الگ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے عمل پر 204 خاندانوں کی اجارہ داری ہے، الیکشن آبزرویشن کے حوالے سے بھی اصلاحات ضروری ہیں۔
فافن کے سابق سربراہ سرور باری نے فافن کی مقامی ہوٹل میں حکومت مخالف کانفرنس کی فنڈنگ اور ورکنگ کو لے کر سنگین الزامات عائد کئے ہیں میں نے اکنامک افئرز ڈویژن اور FIA کو ہدایتی کی ہے کہ ان الزامات پر تحقیقات کریں اور قانونی کاروائی کا آغاز کیا جائے
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) November 20, 2021
ان الزامات پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ سابق سربراہ فافن نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، میں نے اکنامک افیئرز ڈویژن اور ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ ان پر تحقیقات کریں اور قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔









