ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی کراچی میں انتقال کر گئے
ڈاکٹر شمسی کو گذشتہ ہفتے برین ہیمرج کے باعث اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
کراچی: پاکستان کے نامور ماہر امراض قلب و خون ڈاکٹر طاہر شمسی منگل کی صبح رضائے الہیٰ سے کراچی میں انتقال کر گئے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر شمسی کو گزشتہ ہفتے برین ہیمرج کے باعث اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کی سرجری ہوئی تاہم ان کی حالت تشویشناک تھی اور وہ وینٹی لیٹر پر تھے۔
یہ بھی پڑھیے
گوگل کا کرونا ویکسین نہ لگوانے والے ملازمین کو آخری انتباہ
اومی کرون کا پہلا کیس، کراچی کے دو علاقوں میں مائیکرولاک ڈاؤن نافذ
اسپتال انتظامیہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ معروف ہیماٹولوجسٹ ڈاکٹر طاہر شمسی آج صبح انتقال کرگئے تھے۔
ڈاکٹر طاہر شمسی نے 1996 میں پاکستان میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کی ٹیکنالوجی متعارف کرائی تھی۔ ب تک انہوں نے 650 بون میرو ٹرانسپلانٹ کیے اور 100 سے زیادہ تحقیقی مکالے لکھے تھے۔
کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران، ڈاکٹر طاہر شمسی وائرس سے متاثر ہوئے تھے ، صحت یاب ہونے کے بعد انہوں نے کووڈ 19 کا علاج پلازما کے ذریعے کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا۔
2016 میں ڈاؤ گریجویٹس ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ نے انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا تھا۔
2011 میں، ڈاکٹر شمسی نے خون سے متعلق بیماریوں کے علاج کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار بلڈ ڈیزیز قائم کیا۔ وہ NIBD میں اسٹیم سیل پروگرام کے ڈائریکٹر بھی تھے۔ وہ رائل کالج آف پیتھالوجسٹ فیلو بھی تھے۔









