طلبہ اور اساتذہ کا لمز انتظامیہ کے رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

مظاہرین کا کہنا تھا لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کا ڈیلی ویجز کارکنان کو مستقل کرے اور ان کو قانون کے مطابق تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے طالب علموں اور اساتذہ نے انتظامیہ کے رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق لمز کے فیکلٹی اسٹاف اور طلبہ نے یونیورسٹی سے چوکیدار عملے کو غیرمنصفانہ طریقے سے نکالنے اور یونیورسٹی میں فائرنگ کے خلاف احتجاج کیا۔

یہ بھی پڑھیے

مقتول صحافی حسنین شاہ کے مقدمہ میں گرفتاریاں شروع

پنجاب کی 79 تحصیلوں میں مرحلہ وار ریسکیو 1122 کا آغاز کردیا گیا

طلبہ اور فیکلٹی اسٹاف نے احتجاج کے دوران انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈیلی ویجز پر رکھے ہوئے اسٹاف کو مستقل کرے اور ویجز کا نظام ختم کرے۔

مظاہرین کا کہنا تھا ہم چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ عملے کی باقاعدہ بھرتی کرے ، انہیں ماہانہ بنیادوں پر تنخواہ دی جائے اور صحت کے حوالے ہونی والی اصلاحات کا حصہ دار بنائے۔ ڈیلی ویجز پر رکھنے ہوئے ملازمین بغیر کسی وجہ سے فارغ کردیے جاتے ہیں جو ظلم ہے ، اس سے کسی بھی انسان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ کنٹریکٹنگ کے نظام کو ختم کیا جائے۔

طلبہ اور اساتذہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ 10 سالوں کے دوران لمز انتظامیہ نے کم از کم چار مختلف کمپنیوں سے خدمات حاصل کیں۔ جن کمپنیوں سے خدمات حاصل کی گئیں ان میں Brooms, MBM, Anas Brothers, & D-Source – ہیں ، یہ کمپنیاں چوکیدار کی خدمات فراہم کرتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں تبدیل ہوتی رہی مگر افرادی قوت وہی رہی۔ پھر بھی LUMS کی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ کارکنان ان کے نہیں ہیں۔

متعلقہ تحاریر