طلبہ اور اساتذہ کا لمز انتظامیہ کے رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
مظاہرین کا کہنا تھا لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کا ڈیلی ویجز کارکنان کو مستقل کرے اور ان کو قانون کے مطابق تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے طالب علموں اور اساتذہ نے انتظامیہ کے رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق لمز کے فیکلٹی اسٹاف اور طلبہ نے یونیورسٹی سے چوکیدار عملے کو غیرمنصفانہ طریقے سے نکالنے اور یونیورسٹی میں فائرنگ کے خلاف احتجاج کیا۔
یہ بھی پڑھیے
مقتول صحافی حسنین شاہ کے مقدمہ میں گرفتاریاں شروع
پنجاب کی 79 تحصیلوں میں مرحلہ وار ریسکیو 1122 کا آغاز کردیا گیا
طلبہ اور فیکلٹی اسٹاف نے احتجاج کے دوران انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈیلی ویجز پر رکھے ہوئے اسٹاف کو مستقل کرے اور ویجز کا نظام ختم کرے۔
CALL FOR PROTEST @ LUMS: The student and faculty of LUMS will be hosting a sit in at the khokha tomorrow (wednesday) 2 pm onwards against the unfair treatment and firing of the janitorial staff. With the collective demand to end subcontracting and permanently hiring the workers. pic.twitter.com/AcvWZBlA78
— LUMS Students Against Subcontracting (@endsubcontracts) February 1, 2022
مظاہرین کا کہنا تھا ہم چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ عملے کی باقاعدہ بھرتی کرے ، انہیں ماہانہ بنیادوں پر تنخواہ دی جائے اور صحت کے حوالے ہونی والی اصلاحات کا حصہ دار بنائے۔ ڈیلی ویجز پر رکھنے ہوئے ملازمین بغیر کسی وجہ سے فارغ کردیے جاتے ہیں جو ظلم ہے ، اس سے کسی بھی انسان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ کنٹریکٹنگ کے نظام کو ختم کیا جائے۔
طلبہ اور اساتذہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ 10 سالوں کے دوران لمز انتظامیہ نے کم از کم چار مختلف کمپنیوں سے خدمات حاصل کیں۔ جن کمپنیوں سے خدمات حاصل کی گئیں ان میں Brooms, MBM, Anas Brothers, & D-Source – ہیں ، یہ کمپنیاں چوکیدار کی خدمات فراہم کرتی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں تبدیل ہوتی رہی مگر افرادی قوت وہی رہی۔ پھر بھی LUMS کی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ کارکنان ان کے نہیں ہیں۔









