پی ٹی آئی منحرف ارکان اسمبلی کا فیصلہ تیس دن میں کرلیں گے، چیف الیکشن کمشنر
سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے جن اراکین پر منحرف ہونے کا الزام ہے کمیشن انہیں ایک ایک کرکے بلائے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے منحرف ارکانِ قومی اسمبلی کے خلاف نااہلی کے ریفرنسز میں منحرف رکن نور عالم خان کے وکیل نے الیکشن کے ادھورا ہونے پر سوال اٹھا دیا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کے 20 منحرف ارکان کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیے
الیکشن کمیشن نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے بیانات کا نوٹس لے لیا
نواز شریف کیساتھ بیرون ملک جانیوالے صحافیوں کی تحقیقات ہونی چاہئیں
پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے منحرف رکن نور عالم خان کی جانب سے بیرسٹر گوہر نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ نور عالم خان پاکستان تحریک انصاف سے مستعفیٰ نہیں ہوئے اور نہ ہی انہوں نےکسی اور جماعت میں شامل ہوئے ہیں۔
وکیل نے کہا کہ کمیشن مکمل نہیں ہے، اس لئے ادھورا کمیشن اس کیس کی سماعت نہیں کر سکتا۔
نور عالم خان کے وکیل گوہر خان نے کہا کہ 2015 میں اسی نوعیت کے کیس میں الیکشن کمیشن نے حکم دیا تھا کہ مکمل کمیشن ہی ایسے کیسز پر فیصلہ کرے گا، منحرف ارکان کے کیس پر فل کمیشن ہی فیصلہ کر سکتا ہے-
دورانِ سماعت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے جن اراکین پر منحرف ہونے کا الزام ہے کمیشن انہیں ایک ایک کرکے بلائے گا۔
چیف الیکشن کمشنر نے اس موقع پر کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اس کیس میں جواب جمع کرائیں، کمیشن شفاف سماعت ہی کرتا ہے، اسپیکر ریفرنس کی کاپی لے لیں، 6 مئی تک اپنا جواب جمع کرا دیں، ہم 30 دن میں فیصلہ کر لیں گے۔الیکشن کمیشن میں ریفرنسز کی سماعت 6 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دو ممبر خیبر پختونخوا سے ارشاد قیصر اور پنجاب سے الطاف ابراہیم قریشی گزشتہ برس 26جولائی کو پانچ سالہ آئینی مدت پوری ہونے پر ریٹائر ہوگئے تھے۔پنجاب اور خیبرپختونخوا سے دو اراکین کی تقرری تاحال نہیں کی جاسکی۔









