بی آر ٹی پشاور کے کمرشل منصوبے تاخیر کا شکار، حکومت نیند سے جاگے

شہریوں کا کہنا ہے جہاں ایک جانب بی آر ٹی منصوبے سے سفری سہولیات میسر آرہی ہیں وہیں منصوبوں کی عدم تکمیل سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

خیبر پختون خوا (کے پی کے) حکومت کے پشاور بس رپیڈ ٹرانسپورٹ (بی آر ٹی) منصوبے سے منسلک بیشتر امور پایا تکمیل تک نہیں پہنچ سکے.

صوبائی دار الحکومت پشاور میں تھرڈ جنریشن بس رپیڈ ٹرانسپورٹ منصوبہ 13 اگست 2020 کا باقاعدہ افتتاح تو ہوگیا ہے تاہم اس میگا منصوبے سے منسلک بیشتر امور پایا تکمیل تک نہ پہنچ سکے۔

یہ بھی پڑھیے

شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان سے قبل معیشت کے لیے اچھی خبر

مہنگائی اور ادارہ شماریات کے اعدادوشمار، عوام نے جھوٹ کا پلندہ قرار دے دیئے

پشاور میں بی آر ٹی تو رواں دواں ہے تاہم صوبائی وزارت خزانہ کی جانب سے اس کے اخراجات اور آمدن کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا.

بی آر ٹی منصوبے کے زرائع آمدن کے حصول کیلئے شاپنگ مالز اور پلازوں سمیت دیگر امور بھی مکمل نہیں ہو سکے.

نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا تھا کہ اس میگا منصوبے سے اگر ایک طرف آسانیاں تو پیدا ہوئی ہیں وہیں دوسری جانب اس میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بی آر ٹی منصوبے کو عالمی اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے. حال ہی میں بین الاقوامی سطح پر بی آر ٹو کو سسٹین ایبل ٹرانسپورٹ ایوارڈ بھی ملا ہے.

یہ ایک بلاشبہ ایک جدید سفری سہولت کا منصوبہ ہے۔ تاہم اس سے منسلک تاخیر کا شکار کونے والے امور کو بھی جلد پایا تکمیل تک پہنچنا ضروری ہے تاکہ بی آر ٹی ایک منافع بخش منصوبے ثابت ہو اور عوام کو سفری مشکلات سے نجات ملنے کے ساتھ ساتھ مزید سہولیات بھی ملیں.

متعلقہ تحاریر