جج بہت شریف ہیں: انور مقصود کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ
معروف مصنف اور مزاح نگار انور مقصود نے اسمبلی تحلیل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر یہ کہہ کر اپنی رائے دی کہ ’جج صاحبان بھی شریف ہوتے ہیں‘۔

پاکستان کے نامور اسکرپٹ رائٹر، طنز نگار اور مزاح نگار انور مقصود نے وزیراعظم عمران خلاف کے تحریک عدم اعتماد اور قومی اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جج بھی شریف ہیں‘۔
ملک میں جاری سیاسی بحران پر گلوکارہ بلال مقصود نے اپنے والد انور مقصود کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ ویڈیو شیئر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مہوش حیات نے کائنات کو کال ملا دی، جواب نا ملا
مریم نفیس نے اپنا ولیمہ اور صبا قمر نے اپنی سالگرہ مستحقین کے نام کردی
گلوکار بلال مقصود نے اپنے والد انور مقصود سے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے متعلق سوال کیا کہ آپ اس فیصلے پر کیا کہتے ہیں۔
View this post on Instagram
انور مقصود نے جواب دیا کہ ’’میں بہت خوش ہوں۔ میں سپریم کورٹ سے اسی فیصلے کی توقع کر رہا تھا۔ کیونکہ یہی فیصلہ آنا تھا کیونکہ محترم اور معزز پانچوں جج صاحبان بھی شریف ہیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 7 اپریل کو ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے فیصلے کو کالعدم دیتے ہوئے ووٹنگ کرانے کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی جائے جب تک ووٹنگ نہیں ہوگی اسپیکر اسمبلی اجلاس ملتوی نہیں کرسکتے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہو جائے گی۔
تحریک کامیابی کی صورت قومی اسمبلی کے اسپیکر نئے قائد ایوان کے لیے ووٹنگ کرانے کے پابند ہوں گے۔
آئین کی شق 32 کے مطابق وزیراعظم کا عہدہ خالی ہونے کے فوری بعد اسمبلی کی کارروائی کو جاری رکھتے ہوئے سب سے پہلے مسلمان اراکین اسمبلی میں سے کسی ایک کو بطور وزیراعظم منتخب کرنا لازم ہوگا۔









