اسلام آباد ہائی کورٹ کا صحافی انصار عباسی کو بیان حلفی لکھ کر جمع کرانے کا حکم
اٹارنی جنرل خالد جاوید کا کہنا ہے بیان حلفی میڈیا میں شائع ہوا کیسے رانا شمیم خود بتا سکتے، عدالت سے استدعا ہے کہ فریقین پر فرد جرم عائد کی جائے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ انصار عباسی صاحب خبر چھاپنے میں آپ کی کیا نیت کارفرما تھی ہمیں نہ بتائیں آپ نے جو کہنا ہے کہ بیان حلفی میں لکھ کر جمع کرائیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا محمد شمیم کے بیان حلفی پر توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا صحافت میں آپ کسی کے ایڈمنسٹریٹشن آف جسٹس میں مداخلت کریں گے ؟ ہمارے پاس اس عدالت میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کا کیس موجود ہے، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی خبر ٹھیک ہے آپ نے اچھا کیا تو مجھے بین الاقوامی قوانین سے سمجھائیں۔
یہ بھی پڑھیے
سندھ بلدیاتی ترمیمی بل کی منظوری: سیاسی جماعتوں سمیت تاجر برادری بھی مخالف
کالعدم تحریک طالبان پاکستان آئی ای اے کا حصہ نہیں ہیں، ذبیح اللہ مجاہد کا دعویٰ
چیف جسٹس اطہر من اللہ کا انصار عباسی کو مخاطب کرتےہوئے کہنا تھا آپ کسی بین الاقوامی صحافی کا نام دے انکو عدالتی معاون قرار دے کر رائے طلب کریں گے، لیکن مجھے آپ پر اعتماد ہے آپ ہی عدالت کو مطمئن کریں۔ رانا شمیم کہتے ہیں کہ بیان حلفی کو نوٹری پبلک نے منظر عام پر لایا، کیا ہم اٹارنی جنرل سے معاونت لیکر نوٹری پبلک کو نوٹس کرے ، ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی تین سال بعد زندہ ہو اور آکر عدلیہ پر کوئی بھی بات کرے، لوگ اس عدالت پر بداعتمادی کا اظہار کریں یہ برداشت نہیں کریں گے ۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ ایسا تو ہوتا آیا ہے تو یہ واضح کردوں، یہ اسلام آباد ہائی کورٹ ہے۔
دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد جاوید نے رانا محمد شمیم کی جانب سے جمع کرایا گیا بیان حلفی پڑھ کر سنایا۔ بیان حلفی کے مطابق رانا شمیم نے خود کہا کہ میں اس کو میڈیا میں شائع نہیں کرنا چاہتا تھا، بیان حلفی میڈیا میں شائع کیسے ہوا رانا شمیم خود بتا سکتے، عدالت سے استدعا ہے کہ فریقین پر فرد جرم عائد کی جائے۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا عدالت کے سامنے 2 متضاد بیانات آرہے ہیں، بہتر ہوگا ایک بیان حلفی رانا شمیم،دوسرا انصار عباسی سے لیا جائے۔
دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ رانا شمیم نے درخواست میں کہا کہ اصلی بیان حلفی پوتے نے بھیجا ہے، درخواست کے مطابق بیان حلفی تین دن میں آئے گا۔
اس موقع پر صحافی انصار عباسی کا کہنا تھا ہماری نیت توہین عدالت کرنے کی نہیں تھی، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا انصار عباسی صاحب قانون پڑھیں نیت کی ضرورت ہی نہیں ہے، بیان حلفی جمع کرائیں جو کہنا اس میں کہیں۔
عدالت نے پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل ناصر زیدی سے استفسار کیا کہ کسی کی ذاتی دستاویزات شائع کرنا تو قانون کے خلاف ورزی ہے۔ مجھے تاریخ سے کوئی غرض نہیں مجھے اس کیس سے غرض ہے، صرف اتنا بتائیں کہ یہ خبر صحافتی قوانین کے خلاف ہے ہا نہیں ، جبکہ رانا شمیم نے اپنے تحریری جواب میں کہا ہے کہ یہ ان کی ذاتی دستاویزات تھی۔
عدالت کو جواب دیتے ہوئے سیکریٹری جنرل پی ایف یو جے کا کہنا تھا کہ صحافی کا کام یہ ہے کہ وہ ہمیشہ حقائق کو بیان کرے۔
بعدازاں عدالت نے مزید کارروائی 20 دسمبر تک ملتوی کردی۔
عدالت کارروائی کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں میڈیا کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے رانا محمد شمیم کا کہنا تھا کہ میں نے جو بتانا تھا عدالت میں بتا دیا اب کوئی بیان نہیں دوں گا۔ اس پر صحافی نے سوال کیا ہے کہ آپ کے صاحبزادے مختلف دعوے کرتے ہیں کیا آپ دعوؤں کی تصدیق یا تردید کریں گے؟ اس پر رانا شمیم کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کے بیانات سے میرا کوئی تعلق نہیں آپ ان سے ہی پوچھ لیں۔









