سابق چیف جج جی بی رانا محمد شمیم کا بیان حلفی آج بھی منظرعام پر نہ آسکا
اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی کے صورت میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سربمہر بیان حلفی اگلی سماعت پر کھولنے کا حکم دے دیا۔
سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم، صحافی انصار عباسی و دیگر کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کیس پر سماعت ہوئی۔ لندن سے منگوایا گیا سربمہر بیان حلفی عدالت میں پیش کردیا گیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اگلی سماعت پر بیان حلفی اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی موجودگی میں کھولنے کا حکم دے دیا۔
توہین عدالت کیس کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے کی۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی، سینئر صحافی انصار عباسی، دی نیوز کے ایڈیٹر انچیف عامر غوری ، سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم اپنے وکیل لطیف آفریدی کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے عدالت میں پیش نہ ہوسکے۔
یہ بھی پڑھیے
کے پی کے کے بلدیاتی انتخابات کا پہلا خونی مرحلہ مکمل ، 7 افراد کی جانیں گئیں
درہ آدم خیل میں وفاقی وزیر شبلی فراز کی گاڑی پر فائرنگ، ڈرائیور زخمی
اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی کے صورت میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سربمہر بیان حلفی رانا محمد شمیم کے وکیل کو دینے کا کہنا ، تاہم انہوں نے معذرت کرلی۔ لطیف آفریدی کے وکیل نے بھی سربمہر بیان حلفی لینے سے معذرت کرلی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر بیان حلفی منگویا گیا ہے، لہذاہ وہی اس کو کھولے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پھر اس طرح کرتے ہیں، آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی موجودگی سے کھولا جائے گا، یہ اوپن انکوائری ہے، رانا شمیم نے اس عدالت کے ججز پر الزام لگایا ہے، یہ کورٹ انصار عباسی کو سورس کے بارے میں نہیں پوچھے گی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اس عدالت نے رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی کو بھی عدالتی معاون مقرر کر دیا ہے، عدالتی معاون فیصل صدیقی نے اپنا جواب تحریری طور پر عدالت کو جمع کرایا ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ جو باکس اسلام آباد ہائی کورٹ کو موصول ہوا ہے اس کو مزید سیل کرتے ہیں۔
چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ لطیف آفریدی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کی موجودگی میں اسے کھولنا ہے یا ابھی کھولنا ہے آپ بتائیے۔
رانا شمیم کی اصلی بیان حلفی کو عدالت نے رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی کو دیا ، جس پر لطیف آفریدی کا کہنا تھا کہ میں نے دیکھ لیا کہ باکس 100 فیصد ہی سیلڈ ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس بیانی حلفی کو ہم نے مزید سیل کیا، وہ ہم آپ کے حوالے کرتے ہیں
دوران سماعت اطہر من اللہ کا کہنا تھا اس عدالت کو تنقید سے کوئی گھبراہٹ نہیں، تنقید ضرور کریں، تین سال بعد ایک بیان حلفی دیا گیا جس سے عدالت کو نشانہ بنایا گیا، اخبار کی اشاعت سے ایک سینیر جج کو نشانہ بنایا گیا۔
عدالت کا کہنا تھا ہم آپ کو ایک موقع دیتے ہیں آپ عدالت کو مطمئن کرے، اگر عدالت مطمئن ہوئی تو کیس واپس لیں گے۔
رانا محمد شمیم کے وکیل کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا اور ابھی بھی کہا کہ بیان حلفی نہ میں نے میڈیا کو دیا اور نہ ہی کسی اور کو۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ آپ سمجھیں یہ توہین عدالت کی کارروائی نہیں، یہ میرا احتساب ہے، اس ہائیکورٹ یا یہاں کے کسی جج پر کوئی انگلی اٹھائے چیلنج کرتا ہوں۔
لطیف آفریدئی کا کہنا تھا کہ میں نے کب کہا کہ ججز کسی کے اشارے پر چلتے ہیں۔ انگلی اٹھانے والے ریماکس میڈیا میں جاتے ہیں جو کہ ایک غلط ایمپریشن دیتا ہے، لطیف آفریدی کا چیف جسٹس سے مکالمہ۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اگر نوٹری پبلک سے بیان حلفی لیک ہوا تو لندن میں کیس جاسکتا ہے۔ اگر بیان حلفی میں کہے ہوئے الفاظ میں سچائی ہے تو ثبوت پیش کیے جائیں ۔ عوام کا ان عدالتوں پر اعتماد بحال ہے اور بحال رکھا جائے گا، یہ عدالت قانون سے ادھر ادھر نہیں جائے گی۔
بعدازاں توہین عدالت کیس کی سماعت 28 جنوری تک ملتوی کردی۔









