چین نے پاکستان کا 4.3 ارب ڈالر کا قرض ری شیڈول کردیا

ادائیگیاں موخر ہونے سے  پاکستان کے لیے جاری مالی سہولیات میں سیف ڈیپازٹ، دو طرفہ اور تجارتی قرضے کی ادائیگیوں کی واپسی میں دباؤ کم ہوا ہے ۔

چین نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے ساتھ دوستی کا حق ادا کردیا، پاکستان کے 4.3 ارب ڈالر کے قرضے ری شیڈول کردیئے، ادائیگیاں موخر ہونے سے معیشت کی جان میں جان آگئی۔

پاکستان کی معیشت کے لیے اچھی خبر آئی ہے اور وہ یہ کہ چین نے مارچ  2022 میں پاکستان پر واجب الادا 4.3 ارب ڈالر کے قرضںوں کی واپسی کو موخر کردیا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان 4.3 ارب ڈالر کی مالی سہولت رول اوور کرنے میں پیش رفت سے عالمی سطح پر پاکستان کر بڑا ریلیف ملا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سیاسی کشیدگی اور روس یوکرین تنازع معیشت کےلیے خطرہ ہے، وزیر خزانہ

شیل کا9-M موٹر وے پر دوسرے ‘انٹیگریٹیڈ ریٹیل آوٹ لیٹ کا افتتاح

وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق چین نے پاکستان کے ذمہ 2 ارب ڈالر کے سیف ڈیپازٹس کی ادائیگی موخر کردی ہیں ۔ یہ رقم پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے کے لیے مہیا کیا گئی تھی۔ اس ادائیگی کو موخر کرنے سے پاکستان کے زرمبادلہ مزید مستحکم ہوں گے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم ہوگا۔

وزارت خزانہ کے مطابق مزید 2.3 ارب ڈالر کی مالی سہولت رول اوور کردی گئی ہیں۔ یہ رقم پاکستان میں بجٹ سپورٹ کے لیے فراہم کی گئی تھی۔ اس رقم کی واپسی موخر ہونے سے حکومت پاکستان کو اپنے جاری اخراجات پورے کرنے اور بین الاقوامی سطح کر ادائیگیاں کرنے اور خاص طور پر بیرونی ادائیگیاں کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔

ماہرین معاشیات کے مطابق موجودہ سیاسی صورت حال میں چین کی جانب سے اس طرح کی سہولیات فراہم کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ چین ہرمشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ ان 4.3 ارب ڈالر کی سہولیات کو بیلنس آف پےمنٹ اور بجٹ سپورٹ کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان کئی دہائیوں سے مضبوط اقتصادی تعلقات ہیں۔ یہ اقتصادی تعلقات کڑے اور مشکل وقت میں مزید مستحکم ہوجاتے ہیں۔

موجودہ 4.3 ارب ڈالر کی ادائیگیاں موخر ہونے سے  پاکستان کے لیے جاری مالی سہولیات میں سیف ڈیپازٹ، دو طرفہ اور تجارتی قرضے کی ادائیگیوں کی واپسی میں دباؤ کم ہوا ہے ۔ ساتھ ہی یہ پیغام بھی ابھر کر سامنے آیا ہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ میں غیر جانب داری پر  یورپی ملکوں کے نالاں ہونے کے باوجود بھی  پاکستان عالمی سطح پر تنہا نہیں۔

متعلقہ تحاریر