دستاویزات کلیئر نہ کرنے سے درآمدکنندگان کو بھاری نقصان ہورہا ہے، کے سی سی آئی

صدر کے سی سی آئی ادریس میمن کا کہنا ہے درآمدی اشیاء کو پورٹ پر تاخیر سے کلیئر کرنے سے اشیاء خرونوش کی قلت پیدا ہوگی،

ڈالر کی قدر ریکارڈ سطح پر پہنچنے پر بینکوں نے درآمدکنندگان کے دستاویزات کلیئر کرنے سے روک دیں۔ درآمدکندگان کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ادریس میمن کا کہنا ہے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچنے بینکس نہ تو امپورٹ دستاویزات ریٹائر کر رہے ہیں، نہ ہی کوئی دستاویز قبول کر رہے ہیں، بہت سے بینکس درآمد کنندگان کے دستاویزات کلیئر کرنے سے انکار کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

حفیظ شیخ خفیہ مہم مکمل کرکے امریکا سے پاکستان پہنچ گئے

پاکستان ریلویز اور پی ایس او کے درمیان اراضی کے کرائے کا تنازع حل

بینکوں کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک انہیں دستاویزات کی مناسبت سے درکار کوٹہ نہیں دے رہی۔

ادریس میمن کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک اس معاملے میں وضاحت کرے، بینکوں کی جانب سے دستاویزات کلیئر کرنے میں تاخیر سے درآمد کنندگان کو ڈیمرج، ڈیٹینشن کی مد میں بھاری نقصانات کا سامنا ہے، وزیر اعظم ، وزیر خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک صورتحال کا نوٹس لیں، بینکوں کو تنبیہ کی جائے کہ درآمد کنندگان کے دستاویزات فوری کلیئر کریں۔

ادریس میمن کا کہنا ہے درآمدی اشیاء کو پورٹ پر تاخیر سے کلیئر کرنے سے اشیاء خرونوش کی قلت پیدا ہوگی، اضافی ڈیمرج ڈیٹینشن لگنے سے درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، مہنگائی کے بوجھ تلے پہلے سے دبے عوام پر مذید ناقابل برداشت بوجھ پڑے گا

متعلقہ تحاریر