ٹونگا میں زلزلہ ہیرو شیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے 100 گناہ زیادہ تھا، ناسا

دھماکوں کی آواز ہزاروں کلومیٹر دور آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور فجی سمیت دیگر جزائر پر بھی سنی گئیں

امریکی خلائی ادارے ناسا  نے  15 جنوری کو بحرالکاہل میں نیوزی لینڈ کے قریب واقعے ملک ٹونگا میں آنیوالے زیر سمند ر7.8 شدت کے زلزلے کو 1945 میں جاپان کے شہر ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم  کی شدت سے سے کم سے کم 100 گناہ  زیادہ شدت کا قراردیا ہے۔

ٹونگا کے دارالحکومت نوکو الوفا سے 65 کلومیٹر دور شمال میں زیر سمندر آتش فشاں پھٹنے سے آنیوالے زلزلے کی شدت  ریکٹر اسکیل پر سات اعشاریہ آٹھ    ریکارڈ کی گئی ، ناسا کے مطابق آتش فشاں دھماکے کے بعد خارج ہونے والی توانائی 5 سے 30 ملین ٹن ٹی این ٹی جتنی تھی جبکہ ہیروشیما پر ایٹم بم گرانے کے بعد یہ مقدار 15 کلو ٹن ٹی این اٹی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ترکی اور یونان میں زلزلے سے 14 افراد جاں بحق 500 سے زیادہ زخمی

بلوچستان میں سیاسی زلزلہ، صوبائی کابینہ کے ارکان آپے سے باہر

زیر سمندر پھٹنے والے آتش فشاں کی آواز اور اس کے ساتھ ہونے والے دھماکوں کی آواز اس قدر شدید تھیں کہ  ان کو ہزاروں کلومیٹر دور آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور فجی سمیت دیگر جزائر پر بھی سنا گیا، دھماکے کے بعد فضاء میں پھیلنے والی زہریلی راکھ نے         پورے جزیرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، اور راکھ  کی دبیز چادر نے فصلوں کو تباہ کردیا ، پینی کے پانی  کے ذخیروں کو آلودہ کردیا اور اس کے  نیتجےمیں ابھی تک کم سے کم تین افراد ہلاک ہوگئے  جبکہ  زلزلے کے  نیتجے میں سیکڑو میل دور پیرو میں دو افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے ۔

واضح رہے کہ   امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ٹونگا میں آتش فشاء پھٹنے کے بعد آنیوالا زلزلہ پناگائی سے 95 کلوممیٹر کے فاصلے پر سطح ز مین سے 10کلومیٹر کی گہرائی میں تھا، کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ  اس  کا منظر خلا سے بھی دیکھا گیا تھا اور سیٹلائٹ تصاویر بھی  جاری کیں گئیں ، زلزلے سے  پھیلنے والی ماحولیاتی آلودگی اور اس کے اثرات کو زائل کرنے کیلئے ” جاپانی، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی دفاعی افواج نے ٹونگا  کو امدادی سامان خاص طوپر پینے کے صاف پانی کی فراہمی شروع کردی ہے ۔

متعلقہ تحاریر