قصور پولیس کا خواجہ سراؤں پر مبینہ تشدد، 1 لاکھ کی رقم بھی چھین لی

خواجہ سرا کرن نے ڈی پی او قصور کو انصاف کے لیے درخواست دے دی ، صہیب اشرف کا کہنا ہے قانون سب کے لیے برابر ہے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

قصور میں پولیس کا خواجہ سراؤں پر مبینہ تشدد ، ایک لاکھ 2 ہزار روپے بھی چھین لیے ، خواجہ سرا کرن کا کہنا ہے سب انسپکٹر حامد اور دیگر اہلکاروں نے تھانہ اے ڈویژن میں لے جاکر برہنہ کرکے تشدد کیا۔

میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے خواجہ سرا کرن کا کہنا تھا ہم نے تھانہ اے ڈویژن کے اہلکاروں کے خلاف ڈی پی او صہیب اشرف کے پاس انصاف کے لیے درخواست دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور کے سپورٹس کمپلیکس میں دو افراد کی لڑکی سے ‘گینگ ریپ’ کی کوشش

کراچی میں شہری کو ڈاکوؤں سے بچاتے ہوئے سینئر صحافی اطہر متین قتل

تفصیلات کے مطابق تھانہ اے ڈویژن پولیس کو اطلاع ملی کہ علی احمد شاہ کالونی میں کچھ لوگ اونچی آواز میں فحش گانے لگا کر مجرا کروا رہے ہیں۔

پولیس نے ریڈ کرکے مجرا کرانے والے افراد اور خواجہ سراؤں کو حراست میں لے لیا۔

دوسری جانب خواجہ سراؤں کا کہنا ہے پولیس نے ہماری رقم بھی چھین لی اور برہنہ کرکے تشدد بھی کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے بغیر وجہ کے ہمارے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا ہے تاکہ ہم کوئی کارروائی نہ کرسکیں۔

خواجہ سرا کرن نے ڈی پی او قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ہمیں 24 گھنٹوں میں انصاف نہ ملا تو پنجاب بھر کے خواجہ سراؤں کو اکٹھا کرکے دھرنا دیں گے۔

ڈی پی او قصور صہیب اشرف نے ڈی ایس پی سٹی کو تحقیقات کرکے کاروائی کرنے کا حکم دے دیا اور رپورٹ طلب کرلی ہے۔

ڈی پی او قصور کا کہنا ہے قانون سب کے لیے برابر ہے اگر پولیس والے اس معاملے میں قصوروار پائے گئے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اختیار ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ عوام کو تنگ کریں۔

متعلقہ تحاریر