بڑے ٹیکس ریلیف کے باوجود ایف بی آر کے محاصل میں 28.6 فیصد اضافہ

اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ رواں مالی سال میں جاری ہونے والے ری فنڈز کی رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں 30.1 فیصد زیادہ ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال 2021-22 کے دوران جولائی 2021 سے لے کر اپریل 2022 تک کے عرصے میں حاصل کردہ محصولات کی ابتدائی تفصیلات جاری کردی ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ایف بی آر نے 4858ارب روپے کے محصولات اکٹھے کئے ہیں جوکہ طے شدہ ہدف سے 239 ارب روپے زیادہ ہیں۔

ایف بی آر کے مطابق یہ اضافہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران اکٹھے ہونے والے محصولات سے 28.6 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں حاصل شدہ محصولات 3778ارب روپے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

15 مئی تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ

اسٹاک مارکیٹ :کمپنیوں نے 9ماہ کا سب سے زیادہ822ارب روپے کا منافع کمایا

حکام کے مطابق رواں مالی سال کے اپریل کے مہینے میں 480 ارب روپے کے محصولات اکٹھے ہوئے ہیں جوکہ گزشتہ مالی سال کے اپریل کے مقابلے میں 24.9 فیصد زیادہ ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں اپریل کےمہینے میں 384ارب روپے جمع ہوئے تھے۔

دوسری جانب مجموعی قومی آمدن میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے جوکہ جولائی 2020 تا اپریل 2021 تک 3981 ارب روپے تھے اور موجودہ مالی سال کے جولائی 2021 تا اپریل 2022 تک حاصل شدہ مجموعی قومی آمدن 5122ارب روپے تھی۔

اس طرح اس مد میں موجودہ مالی سال میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 28.6 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح رواں مالی سال کے اپریل کے مہینے میں 34.6 ارب روپے کے ری فنڈز جاری کئے گئےجوکہ گزشتہ مالی سال کے اپریل کے مہینے میں جاری ہونے والے ری فنڈز 19.6ارب روپے تھے۔

گزشتہ مالی سال کے اپریل میں جاری ہونے والے ری فنڈز کی رقم میں اس سال 76.2فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح جولائی 2021 تا اپریل  2022 تک 264ارب روپے بطور ری فنڈ جاری کئے گئے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 203ارب روپے ری فنڈ کئے گئے تھے۔

اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ رواں مالی سال میں جاری ہونے والے ری فنڈز کی رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں 30.1 فیصد زیادہ ہے۔

اگرچہ ایف بی آر نے آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق 6100 ارب روپے کے محصولات کے ہدف پر رضامندی ظاہرکی ہے تاہم یہ رقم اس سے پہلے ایف بی آر کا طے شدہ ہدف نہیں تھی لہذا اس بڑے ہدف کے حصول کے لئے ایف بی آر کو ہر مہینے 484.5ارب روپے کے محصولات اکٹھے کرنا ہوں گے  تاکہ پہلے 5829 ارب روپے کا ابتدائی ہدف پورا ہوسکے اور بعد ازاں مئی اور جون  میں ماہانہ 621 ارب روپے کے محصولات اکٹھے کرنا ہوں گے تاکہ 6100 ارب روپے کا نظرثانی شدہ ہدف پورا ہوسکے۔

موجودہ حکومت کا مکمل عزم ہے کہ وہ موجودہ مالی سال میں 6100 ارب روپے کے محصولات کا ہدف حاصل کرے گی۔

یاد رہے کہ محصولات کے حصول کی شرح میں مسلسل اور مستقل اضافہ حکومت کی جانب سے عام آدمی کو جملہ اشیائے ضروریہ پر دی جانے والی ٹیکس سہولت کے باوجود ہورہا ہے۔

ملک میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ تمام پی اوایل مصنوعات پر سیلز ٹیکس ختم کردیا گیا ہو۔ اس کی وجہ سے ایف بی آر کو صرف اپریل کے مہینے میں متوقع محصولات میں سے 45 ارب روپے کم ہوئے۔

اسی طرح جب کھادوں، کیڑے مار ادویات، ٹریکٹرز، گاڑیوں اور تیل و گھی پر سیلز ٹیکس میں چھوٹ دی گئی تو اس وجہ سے ملکی خزانے میں ماہانہ 18ارب روپے کم جمع ہوئے۔ اسی طرح ادویات کے شعبے میں زیروریٹنگ سےایف بی آر کے لئے صرف اپریل ہی کے مہینے میں 10 ارب روپے سیلز ٹیکس کم ہوگیا۔

ان تمام رعائتوں کے سبب صرف اپریل کے مہینے میں متوقع محصولات میں سے 73ارب روپے کم ہوئے۔ علاوہ ازیں سیاسی غیر یقینی اور درآمدی دباؤ نے بھی اپریل کے مہینے کے دوران محصولات کی وصولی پر منفی اثر ڈالا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت اور ٹیکس دہندگان کو سہولت کے ذریعے محصولات کے حصول کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے مقصد سے حکمت عملی اور عملدرآمد، دونوں سطحوں پر متعدد منفرد اقدامات کئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف کاروبار کرنے میں آسانی کو یقینی بنایا گیا ہے بلکہ محصولات کی وصولی میں صحت مندانہ مستحکم نمو بھی ہوئی ہے۔

اسی طرح فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی موجودہ اعلیٰ قیادت نےشفاف ٹیکسیشن کے ایک نئے کلچر کا آغاز کیا ہے جس کی واضح توجہ صرف ٹیکس کی منصفانہ وصولی پر ہے نہ کہ ادائیگی کے لئے جاری ہونے والے ریفنڈز کو روکنا ہے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف ایف بی آر اور ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد کی بحالی کے عمل کو تیزی سے بڑھایا گیا ہے بلکہ کاروباری برادری کے لیے انتہائی ضروری ترسیلات زر کو بھی یقینی بنایا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایف بی آر حکومت کی طرف سے اپنائے گئے معاشی چیلنجوں اور قیمتوں میں استحکام کے اقدامات کے باوجود اپنے مقرر کردہ محصولاتی اہداف سے آگےبڑھ رہا ہے۔

متعلقہ تحاریر