سری لنکا میں معاشی بحران مزید سنگین،سرکاری دفاتر اور اسکول 2 ہفتے کیلیے بند
وزارت پبلک ایڈمنسٹریشن نے پٹرول اور ڈیزل کی شدید قلت کی وجہ سے تمام محکموں، عوامی اداروں اور مقامی کونسلوں کو پیر سے صرف ضروری خدمات کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کردیا

سری لنکا میں معاشی بحران مزید سنگین ہوگیا۔ درآمدی ایندھن کی ادائیگی کے لیے ڈالر کی کمی اور پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام تقریباً مفلوج ہونے کے باعث حکومت نے سرکاری دفاتر اور اسکولوں کو دو ہفتے کے لیے بند کرنے کا اعلان کردیا۔
وزارت پبلک ایڈمنسٹریشن نے پٹرول اور ڈیزل کی شدید قلت کی وجہ سے تمام محکموں، عوامی اداروں اور مقامی کونسلوں کو پیر سے صرف ضروری خدمات کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیے
سری لنکا میں اقتصادی بحران ، ملک دیوالیہ ہوگیا
سری لنکا، احتجاجی مظاہروں میں 7 شہری ہلاک، فوج کو خصوصی اختیارات تفویض
پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی اور نجی گاڑیوں کا بندوبست کرنے میں ناکامی کے بعد حکومت سے دفاتر سے کام کرنے والے ملازمین کی تعداد میں زبردست کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
1948 میں آزادی حاصل کرنے والے سری لنکا کو تاریخ کے اپنے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے، سری لنکن حکومت کو گزشتہ سال کے آخر سے خوراک، ادویات اور ایندھن جیسی ضروریات زندگی کی درآمد کے لیے زرمبادلہ کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
ایندھن کے بحران پر قابو پانے کیلیے حکام نے جمعہ کو تعطیل کا اعلان بھی کیا تھا۔تاہم اس اقدام کے باوجود جمعے کو پمپنگ اسٹیشنوں کے باہر لمبی قطاریں دیکھی گئیں، بہت سے گاڑی مالکان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ٹینکوں کو بھرنے کے لیے کئی دن سے انتظار کر رہے تھے۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ سری لنکا میں ہر 5 میں سے 4 افراد نے کھانا چھوڑنا شروع کر دیا ہے کیونکہ وہ کھانا خریدنےکے متحمل نہیں ہیں، اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سنگین انسانی بحران کے خطرے سے دوچار لاکھوں افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے کہا کہ اس نے خوراک کی تقسیم شروع کردی۔جمعرات کو”زندگی بچانے والی امداد“کے حصے کے طور پر کولمبو کے کم محفوظ علاقوں میں تقریباً 2000 حاملہ خواتین کو واؤچرزدیے گئے۔
ڈبلیو ایف پی خوراک کی امدادی کوششوں کے لیےجون اور دسمبر کے درمیان 60 ملین ڈالر اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ سری لنکا اپریل میں اپنے 51 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے میں نادہندہ ہو گیاتھااور بیل آؤٹ کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے بات چیت کر رہا ہے۔









