یوم آزادی پر اسلام آباد میں غیر ملکی خواتین سے ہراسانی کا واقعہ

پاکستان مونومنٹ میں اوباش نوجوانوں نے غیر ملکی خواتین کو سرعام ہراساں کیا، لوگ تماشہ دیکھتے اور وڈیو بناتے رہے، آئی جی اسلام آباد کا نوٹس، مقدمہ، وڈیوز کی مدد سے ملزمان کی شناخت کا عمل جاری

وفاقی دارالحکومت میں 75 ویں یوم آزادی پر افسوس ناک واقعہ  پیش آیا ہے، اسلام  آباد کے تفریحی مقام شکر پڑیاں پراوباش نوجوانوں نے  غیر ملکی خواتین کو ہراسانی کا نشانہ بناڈالا۔

موقع پر موجود افراد غیر ملکی مہمانوں کوبچانے کے بجائے تماشہ دیکھتے رہے اور موبائل فون سے وڈیوز بناتے رہے ۔

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد میں باحجاب خاتون  سرعام جنسی ہراسانی کا شکار

اسلام آباد میں نامعلوم شخص کی پیزا بوائے سے جنسی زیادتی

14 اگست کے دن شکرپڑیاں میں واقع پاکستان مونومنٹ میوزیم اور یادگار  اوباش نوجوانوں سے بھری رہی۔ اس دوران مونومنٹ کا دورہ کرنے والی  غیر ملکی مہمان خواتین کو سرعام ہراساں کیا گیا ۔ لوگ انہیں بچانے کی بجائے موبائل فون پر تصاویر اور ویڈیو بناتے  اور تماشا دیکھتے رہے۔

 اسلام آباد پولیس واقعہ کے کئی گھنٹے بعد جاگی اور  آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے  واقعے کا نوٹس لے لیا۔ پولیس نے آئی جی اسلام آباد  کے حکم   پر واقعے کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی  ۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ملزمان کی شناخت کے لئے ویڈیو نادرا کو بھجوائی جارہی ہے۔ ویڈیو میں تمام ملزمان کی شناخت کرکے گرفتار کیا جائے گا۔کیس کو ڈی آئی جی آپریشنز سہیل ظفر چٹھہ خود سپروائز کریں گے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک افسوس ناک اور مجرمانہ فعل ہے اور ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو اس کی بھرپور مذمت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ 14 اگست کو لاہور میں بھی رکشے میں بیٹھی خواتین    کو ہراساں کیا گیا تھا جبکہ  مینار پاکستان میں خاتون ٹک ٹاکر کے کپڑے بھی پھاڑے گئے تھے۔

متعلقہ تحاریر