عسکریت پسند بابو سر روڈ پر قابض، گلگت بلتستان کےسینئر وزیر کا اغوا و رہائی
ڈیڑھ 2سو لوگ مجھے روک کرایک کمرے میں لےگئے جہاں انہوں نے مجھ سے اسیروں کی رہائی اور 2 لاپتا افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا، سینئر وزیر عبید اللہ بیگ

عسکریت پسند گلگت شہر جانے والی چلاس، بابو سر روڈ پر قابض ہوگئے اور گلگت بلتستان کے سینئر وزیرجیل خانہ جات کرنل ریٹائرڈ عبیداللہ بیگ کو اغوا کرلیا۔ مذاکرات کے بعد صوبائی وزیر کو رہا کردیا گیا۔
گلگت بلتستان کے سینئر وزیر جیل خانہ جات کرنل (ر)عبید اللہ کو 2 غیر ملکیوں سمیت اسلام آباد سےگلگت بلتستان آتے ہوئے بابوسر روڈ پر یرغمال بنالیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
کالعدم ٹی ٹی پی کا فاٹا انضمام کے مسئلے پر پیچھے ہٹنے سے انکار
قبائلی اضلاع کے انضمام پر ٹی ٹی پی کے ساتھ ڈیڈلاک ہے، قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ
عبیداللہ بیگ نےجیو نیوز کو بتایا کہ اسلام آباد سےگلگت آتے ہوئے بابوسرٹاپ پر میری گاڑی خراب ہوگئی تھی، گاڑی ٹھیک ہونے کے بعد نیچے آنے تک شام ہوگئی تھی، ہم جل تھانے کے قریب پہنچے تو روڈ بلاک تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ڈیڑھ 2سو لوگ مجھے روک کرایک کمرے میں لےگئے جہاں انہوں نے مجھ سے اسیروں کی رہائی اور 2 لاپتا افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔
ALERT: Militants have blocked the Babursar-Chilas road leading to Gilgit City Senior Minister of Gilgit Baltistan Ubaidullah Baig who was travelling from Islamabad to his hometown was caught in the midst of the situation, he confirmed that negotiations were underway 1/3
— The Khorasan Diary (@khorasandiary) October 7, 2022
خراسان ڈائری نامی ٹوئٹر ہینڈل کے مطابق عسکریت پسندوں نے گلگت شہر جانے والی بابوسر چلاس روڈ کو بند کر دیا ہے،اسلام آباد سے آبائی شہر جانے والے گلگت بلتستان کے سینئر وزیرعبید اللہ بیگ صورتحال کے درمیان پھنس گئے۔
I am stuck on my way to chilas from babusar top. Taliban have blocked the roads 7 km above chilas. Right now i m btw babusar and chilas , 14km away from chilas zero point. There are 8 to 10 families with us. Taliban have arrived at our location too. We are not allowed to move.
— Faaiz Sultan (@faaiz_sultan) October 7, 2022
فیض سلطان نامی ٹوئٹر صارف نے بتایا ہے کہ وہ بابوسر ٹاپ سے چلاس جاتے ہوئے پھنس گئے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے چلاس سے 7 کلومیٹر اوپر سڑکیں بند کر دی ہیں، وہ بابوسر اور چلاس کے درمیان اور چلاس زیرو پوائنٹ سے 14 کلومیٹر دور ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ 8 سے 10 خاندان ہیں، طالبان ان تک پہنچ چکے ہیں اور انہیں حرکت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔









