سی ٹی ڈی شہریوں کے مبینہ اغوا میں ملوث، رہائی کیلئے لاکھوں کی رشوت کی مانگ

جیکب آباد کی ڈومکی برادری نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ پیربخش گوٹھ کے رہائشیوں کو سی ٹی سی پولیس کے  ظلم و ستم سے بچایا جائے ، سی ٹی ڈی اہلکار غیرقانونی طور پر ہمارے گھروں پر چھاپے مار کر ہمارے مردوں کواغوا کرکے لاکھوں روپے رشوت طلب کرتی ہے

سکھر کی  سی ٹی ڈی پولیس شہریوں کے لیے خوف کی علامت بن گئی ہے۔ سی ٹی ڈی اہلکار شہریوں کو مبینہ طور پر اغوا کرکے لاکھوں روپے رشوت طلب کرنے لگی ہے ۔

جیکب آباد کے نواحی علاقے پیربخش گوٹھ  کی ڈومکی برادری کی خواتین و بچوں نے سی ٹی ڈی اہلکاروں کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔

یہ بھی پڑھیے

تھرپارکر میں ہرن کا غیرقانونی شکار: ملزمان محکمہ وائلڈ لائف کو جرمانہ ادا کرنے پر راضی

پیر بخش بھٹی کی رہائشی خواتین کی جانب سے کیے گئے احتجاج کے دوران مذکورہ خواتین نے بتایا کہ سی ٹی ڈی  اہلکاروں نے دو روز قبل ہمارے گھروں پر غیر قانونی طور پر چھاپہ مارا ۔

متاثرہ خواتین نے کہا کہ  سی ٹی ڈی اہلکار زیر دستی گھروں میں داخل ہوئے  اور وریام اور اسکے بھائی محمد نصیر جبکہ 14 سالہ بچے صابر کو اٹھا کر لے گئی اور رہائی کے لیے رشوت طلب کررہی ہے ۔

پیر بخش بھٹی کی رہائشی خواتین نے بتایا کہ سی ٹی ڈی پولیس نے تینوں کی رہائی کے لیے 2 لاکھ روپت رشوت طلب کی ہے جبکہ ہم لوگ انتہائی غریب  لوگ ہیں ۔

خواتین کا کہنا تھا کہ ہماری شکایت پر پولیس نے ہمارے نوجوانوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جبکہ ہمیں ان سے ملنے بھی نہیں دیا جا رہا ہے ۔

متاثرہ خاتون  مسمات ہوراں نے بتایا کہ کچھ ماہ پہلے میرے شوہر عزیز کو شک کی بنیاد پرگرفتار کیا اور جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور جرم ثابت نہ ہونے پر اس کے خلاف ایک اور جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

خاتون نےکہا کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے رشوت نہ دینے پرایک بار پھر میرے شوہر اور بھتیجے کو اغوا کیا۔ پولیس اہلکار ہم پر مسلسل ظلم و بربریت کررہے ہیں ۔

پیر بخش بھٹی  کی رہائشی  خواتین نے بالا حکام سے نوٹس لیکربلاجواز گرفتار افراد کی رہائی سمیت ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی کر کے انصاف و تحفظ فراہمی کا مطالبہ کیا ہے ۔

متعلقہ تحاریر