قومی اسمبلی کی 64 نشستوں پر انتخابات ہوسکتے ہیں تو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کیوں نہیں؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کی  33 نشسوں پر 16 مارچ کو اور 31 نشستوں پر 19 مارچ کو انتخابات کرانے کا شیڈول جاری کیا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے جمعے کے روز قومی اسمبلی کے مزید 31 حلقوں پر ضمنی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردیا جبکہ اس کے قبل ای سی پی نے 33نشستوں پر ضمنی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا تھا ، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اگر 64 نشستوں پر انتخابات ہوسکتے ہیں تو پنجاب اور کے پی میں سیکورٹی کی صورتحال کو وجہ بنا کر انتخابات میں تاخیر سمجھ دے بالاتر ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے جاری نوٹی فیکیشن کے مطابق قومی اسمبلی کی 31 نشستوں پر ضمنی انتخاب 19 مارچ کو ہوگا۔

یہ نشستیں قومی اسمبلی کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی جانب سے پی ٹی آئی کے ایم این ایز کے استعفوں کی منظوری کے بعد خالی ہوئی تھیں ، جنہیں بعدازاں ای سی پی کی جانب سے ڈی نوٹیفائی کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان کی مدد کے بغیر پاکستان میں دہشتگردی ختم نہیں ہوسکتی، فواد چوہدری

سانحہ پشاور ہوا نہیں اور انہوں نے الیکشن ملتوی کرنے کی باتیں کردیں، عمران خان کا حکومت پر الزام

واضح رہے کہ ای سی پی نے قومی اسمبلی کی 33 خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات 16 مارچ کو کرانے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب ایک اور ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش میں مصروف پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے قومی اسمبلی کی تمام 33 نشستوں سے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا ، تاہم بعد میں انہوں نے اپنے فیصلے سے پیچھے ہوئے سابقہ ایم این ایز کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کا شیڈول

ای سی پی کے اعلان کردہ انتخابی شیڈول کے مطابق امیدوار 10 سے 14 فروری کے درمیان کاغذات نامزدگی جمع کرا سکیں گے۔

امیدواروں کے نام 15 فروری کو شائع کیے جائیں گے اور ریٹرننگ افسران (آر اوز) 18 فروری تک کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کریں گے۔

کاغذات نامزدگی کی منظوری یا مسترد ہونے سے متعلق آر او کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی آخری تاریخ 22 فروری ہوگی۔

انتخابی شیڈول کے مطابق اپیلٹ ٹربیونل کی اپیلوں پر فیصلہ سنانے کی آخری تاریخ 27 فروری ہے جس کے بعد امیدواروں کی نظرثانی شدہ حتمی فہرست 28 فروری کو جاری کی جائے گی۔

کاغذات نامزدگی واپس لینے اور امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست جاری کرنے کی آخری تاریخ یکم مارچ ہے جبکہ انتخابی نشانات 2 مارچ کو الاٹ کیے جائیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک جانب امن و امان کی صورتحال کو وجہ بنا کر پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنرز انتخابات کی تاریخ دینے سے گریزاں ہیں وہیں دوسری جانب الیکشن کمیشن 64 حلقوں میں ضمنی انتخابات کرانے جارہا ہے ، اس کا مطلب واضح ہے کہ پنجاب اور کے پی میں انتخابات جان بوجھ کر یا پھر ہار کے ڈر سے ڈیلے کیے جارہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر