کراچی پولیس آفس پر حملے کے وقت انچارج نشے میں دھت، چوکیاں خالی تھیں
حملے کے وقت سیکیورٹی انچار شراب پی رہا تھا، تینوں چوکیوں پر کوئی اہلکار نہیں تھا، دہشت گرد عقبی دیوار کود کر داخل ہوئے، 2 دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی، 2 خودکش جیکٹیں، 8 دستی بم برآمد
کراچی پولیس آفس(کے پی او) پر دہشت گردوں کے حملے کے وقت سیکیورٹی انچارج کے شراب کےنشےمیں دھت ہونے اور دفتر میں قائم تینوں چوکیاں خالی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
جمعے کو کراچی کے علاقے شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشتگروں کے حملے میں دو پولیس اہلکاروں اور رینجرز کے سب انسپکٹر سمیت 4 افراد شہید ہوگئے تھے جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائی میں 3 دہشتگرد مارے گئے اور عمارت کو تقریباً 4 گھنٹے بعد کلیئر کرالیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
کراچی پولیس آفس پر حملہ،3 دہشتگرد ہلاک، پولیس، رینجرز اہلکاروں سمیت 4افراد شہید
پاک فوج کا جنوبی وزیرستان میں آپریشن،11دہشت گرد ہلاک
سینئر صحافی فیض اللہ خان نے پولیس ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس ہیڈ کوارٹر پر کالعدم ٹی ٹی پی کے حملے کے وقت سیکیورٹی انچارج شراب پی رہا تھا اور نشے میں دھت تھا۔
پولیس ہیڈ کوارٹر پہ کالعدم ٹی ٹی پی کے حملے کے وقت سیکیورٹی انچارج شراب پی رہا تھا ، نشے میں دھت تھا
پولیس ذرائع— Faizullah Khan فیض (@FaizullahSwati) February 17, 2023
جیو نیوز کے مطابق تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ حملے کے وقت تین چوکیوں میں سے کسی میں بھی کوئی اہلکار موجود نہیں تھا۔ ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس سے ملحقہ پولیس لائن صدرکوارٹرز میں داخلےکا کوئی سکیورٹی گیٹ نہیں، پولیس لائن کے کوارٹرز میں پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ رہائش پذیر ہیں۔
کراچی پولیس چیف آفس پر دہشتگردوں کی جانب سے حملے کی اطلاع ملتے ہی رینجرز کی کوئیک رسپانس فورس کے اہلکار مو قع پر پہنچ گئے۔ انسداد دہشتگردی ونگ (قلندر فورس)کے بریگیڈئیر توقیر نے آپریشن کی قیادت کی۔ رینجرز کے انسداد دہشتگردی ونگ (قلندر فورس) کے بریگیڈئیر، وِنگ کمانڈرز pic.twitter.com/ydWDuXnZWD
— Ebad Usmani (@Ebadusmanii) February 17, 2023
ذرائع کا کہنا ہےکہ دہشت گرد مبینہ طور پرکے پی او میں عقبی دیوار کود کر داخل ہوئے، حملےکے وقت تینوں چوکیوں پر کل کوئی نہیں تھا، کے پی او کی عقبی دیوار پر خاردار تار ٹوٹی ہوئی دیکھی گئی ہے، کے پی او کی مرکزی شاہراہ پرسی سی ٹی وی کیمرا نہیں صرف اطراف میں ہیں۔ دہشت گرد جس کار میں آئے تھے وہ صدر تھانے میں موجود ہے اور اس سے متعلق شواہد جمع کرلیےگئے ہیں۔
Important information about two terrorists, whokilled in encounter terrorist, Kifayatullah, belonged to Lucky Marwat,Another terrorist Zalanoor belonged to North Waziristan,More information about the terrorists is being obtained#KarachiAttack #KPOAttack #KPO #Karachi pic.twitter.com/td7gY0pE3L
— Ebad Usmani (@Ebadusmanii) February 17, 2023
دریں اثنا حملے کے بعد ہلاک ہونے والے 3 میں سے 2 دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے۔22 سالہ دہشت گرد کفایت اللہ لکی مروت کا رہائشی تھا جبکہ 20 سالہ زالہ نورشمالی وزیرستان سے تعلق رکھتا تھا جبکہ تیسرے دہشتگرد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
مبینہ طور پہ حملہ آور اس گاڑی میں آئے pic.twitter.com/5iD0q7sEHP
— Faizullah Khan فیض (@FaizullahSwati) February 17, 2023
بم ڈسپوزل اسکواڈ حکام کا کہنا ہے کہ مارے گئے 2 دہشتگردوں نے بھی خودکش جیکٹس پہن رکھی تھی، اس کے علاوہ دہشت گردوں سے 8 دستی بم اور 3 گرنیڈ لانچر ملے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ طور پر دہشت گردوں کی جانب سے پھینکےگئے دستی بم پھٹ نہیں سکے، دہشت گردوں سے برآمد خودکش جیکٹس 8 سے 10 کلو وزنی تھیں۔
کراچی پولیس آفس پر حملے میں شہید ہونے والا رینجرز اہلکار تیمور#KPOAttack pic.twitter.com/7ekqnVTJQm
— Saqib Sagheer (ثاقب صغیر) (@saqibSJang) February 17, 2023
دہشتگردوں سے مقا بلے کے دوران رینجرز کے سب انسپکٹر تیمور شہید جبکہ 7 جوان زخمی ہوئے۔شہید سب انسپکٹر تیمور کا تعلق ملتان سے ہے جبکہ شہید پولیس ہیڈ کانسٹیبل غلام عباس کا تعلق لاڑکانہ سے ہے اور وہ ٹینک چوک کے رہائشی تھے۔شہید غلام عباس نے 2011 میں سندھ پولیس میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی، ترقی کر کے ہیڈ کانسٹیبل بنے۔

کراچی پولیس آفس پر حملے کے وقت ہیڈ کانسٹیبل غلام عباس ڈیوٹی پر مامور تھے اور دہشتگرد حملے میں شہید ہوئے، انہوں نے لواحقین میں 3 بیٹوں اور ایک بیٹی سمیت بیوہ کو سوگوار چھوڑا ہے۔کراچی پولیس آفیس پر حملے میں کے پی او کا سوئیپر اجمل بھی شہید ہوا۔









