وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے الیکشن پر مشروط آمادگی ظاہر کردی

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے اگر الیکشن کمیشن تمام قسم کے جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کردے تو انتخابات کا انعقاد کوئی مشکل کام نہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ الیکشن کرانے یا نہ کرانے کا فیصلہ حکومت نے نہیں کرنا ، کیونکہ یہ فیصلہ تو الیکشن کمیشن نے کرنا ہے ، اگر الیکشن کمیشن پابندی لگا دے کہ نہ کوئی جلسہ ہوگا ، نہ کوئی جلوس ہوگا ، نہ کوئی ریلی ہو گی ، اور نہ بند کمروں میں بے لگام بکواس ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر داخلہ نے گذشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بند کمروں میں لوگوں پر دشنام طرازی ہو گی، نہ گالی گلوچ ہو گی نہ ادارروں کو بدنام کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن اس قسم کی پابندیاں لگا اور جو ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرے اس کو نااہل قرار دیا جائے۔ تو میرا خیال ہے کہ انتخابات کا انعقاد کوئی مشکل کام نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان انتخابی مہم ضرور چلائیں: معیشت کیسے ٹھیک ہوگی وہ پلان بتائیں

ازخود نوٹس کیس میں فیصلہ 2-3 سے نہیں 3-4 سے آیا تھا، مولانا فضل الرحمان

جے یو آئی (ف) کے سربراہ کی جانب سے انتخابات ملتوی کرانے کے بیان پر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ وہ پی ڈی ایم کے سینئر قائد ہیں یہ ان کی رائے ہے اس رائے پر پی ڈی ایم کا اجلاس ہونے جارہا ہے، اگر پی ڈی ایم اس رائے کو مسترد کرتی ہے تو وفاقی حکومت کا بیان بھی سامنے آئے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی رائے قابل قدر ہے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حالات سب کے سامنے ہیں، ان حالات میں ان کی رائے بےمحل نہیں اس میں وزن ہے، اس صورتحال میں کم از کم انتخابی مہم چلانا تو ممکن ہی نہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کل پولیس ٹیم عمران خان کی گرفتاری کے لیے گئی تھی پی ٹی آئی والوں نے بہت ڈرامہ کیا، عمران خان دیوار پھلانگ کر ہمسائے کے گھر چلا گیا اور کہا گیا کہ عمران خان یہاں نہیں ہے ، پھر اس نے واپس آکر وہاں لمبی چوڑی تقریر شروع کردی۔ دراصل پولیس انہیں گرفتار کرنے نہیں بلکہ عدالتی حکم سے آگاہ کرنے اور عدالت میں پیش کرنے گئی تھی انہیں تعاون کرنا چاہیے تھا،

متعلقہ تحاریر