مریم اورنگزیب نے سپریم کورٹ پر عمران خان کی پشت پناہی کا الزام لگا دیا
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق نیب نے قانون کے مطابق عمران خان کو گرفتار کیا۔ اس گرفتاری کو احتساب عدالت نے بھی قانونی قرار دیا ۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ تین دن سے ایک مجرم کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان حساس اداروں کی تنصیبات پر ، املاک کے اوپر ، عمارتوں کے اوپر ، مساجد کے اوپر ، اسپتالوں کے اوپر ، اسکولز کے اوپر حملہ آور ہیں۔ عمران خان نے 60 ارب روپے کی چوری کی ہے ، اور القادر ٹرسٹ کیس کے اندر نیب نے اسے گرفتار کیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس کے اندر تفتیش کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتاری کے بعد جس قسم کا ملک کے اندر ماحول بنایا گیا ، دہشتگردی اور ملک دشمنی کا ماحول بنایا گیا۔ چند سو جتھوں کے ساتھ ملکر منصوبہ بندی کے تحت ان جگہوں پر حملے کئے گئے۔
یہ بھی پڑھیے
عمران کو قانون کے تحت گرفتار کیا گیا، تشدد کے ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے، بلاول بھٹو
کور کمانڈر ہاؤس میں آتشزدگی: عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان پر سات مقدمات درج
ان کا کہنا تھا جب عمران خان کو گرفتار کیا گیا ، اس کے بعد اس پلیننگ کی جتنی آڈیوز ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ پوری منصوبہ بندی کے تحت حملے کیے گئے ، پی ٹی آئی قیادت کی ان آڈیوز کے ذریعے کارکنان کو ہدایات دی جاتی رہیں۔ ان آڈیوز سے پتا ہے کہ کتنے لوگوں نے کہاں پہنچنا ہے اور کتنے لوگوں نے حملہ کرنا ہے ، ان تمام چیزوں کا ان لیک ہونے والی آڈیوز سے پتا چل رہا ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق نیب نے قانون کے مطابق عمران خان کو گرفتار کیا۔ اس گرفتاری کو احتساب عدالت نے بھی قانونی قرار دیا ۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے الزام لگایا کہ پہلی مرتبہ 48 گھنٹے کے اندر ایک مجرم کو ، ایک دہشتگرد کو ، مسلح جتھوں کے سرغنہ کو ، سپریم کورٹ کا اس کو ریلیف دینے کا تاثر ایک دہشتگرد کی پشت پناہی ہے۔
وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ ’تاریخ کا پہلا تیز ترین جسمانی ریمانڈ آپ کو یاد ہوگا کہ اس ملک کے ہی تین دفعہ کے منتخب وزیراعطم نواز شریف، مریم نواز، صدر آصف علی زرداری اور اس ملک کا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، رانا ثنااللہ پر 15 کلو ہیروئن اور چاردیواری میں گھس کر ان کی بہنوں بیٹیوں اور لوگوں کے گھروں پر حملہ آور ہوتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سلمان شہباز، حمزہ شہباز، مفتاح اسمٰعیل، سعد رفیق، سلمان رفیق اور تمام فہرستیں ہیں، لوگوں کی بیٹیوں کو گھسیٹ کر جیلوں میں ڈالا جاتا تھا، لوگوں کے گھروں پر ریڈ ہوتے تھے اور یہ اس وقت ہوتے تھے جب نمیب کی پیشیاں بھگت رہے ہوتے تھے۔
مریم اورنگزیب نے بتایا کہ ’اس وقت نہ کوئی کھڑکی بجتی ہے اور نہ کوئی دروازہ بجتا ہے اور اس وقت عدالت کی بے توقیری ہوتی ہے، جس وقت کے گرفتار کرکے جاؤ تو نوکری نہیں بچتی، یہ کیوں اتنی مجبوری اور محبت ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر عدالتیں، انصاف اور ملک کا قانون دہشت گردوں اور مسلح جتھوں کی جنہوں نے میرے ملک کو جلایا ہے، ان کی پشت پناہی ہوگی اور حوصلہ افزائی ہوگی تو تمام لوگ اس ریلیف کے مستحق ہوں گے‘۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’مجھے یہ بتائیں کہ جس نے ریاست کی خاطر بندوق اٹھاتے ہیں، جو سرحدوں اور عوام کی حفاظت کی خاطر بندوق اٹھاتے ہیں، جو شہید ہوتے ہیں، جو غازی بنتے ہیں، ان کی بے توقیری کا انصاف کون دے گا، ان کی یادگاروں کو جلایا گیا‘۔









