سرمایہ کاری کونسل کا قیام ، حکومت نے انتخابات کے معاملے پر شکوک پیدا کردیئے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے 'سپیشل انوسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل' تو قائم کردی ہے ، مگر حکومت یہ بتانا پسند کرے گی کہ ڈھائی ماہ میں کون غیرملکی سرمایہ کار آپ کے پاس انویسٹمنٹ کرنے آئے گا ، کیونکہ 12 اگست کو آپ کی حکومت کی مدد ختم ہونے والے ہے۔

12 اگست کو ختم ہونے والے شہباز شریف حکومت نے غیرملکی سرمایہ کاری کے راستے میں رکاوٹیں دور کرنے کے ‘سپیشل انوسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل’ (ایس آئی ایف سی) قائم کر دی گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ کونسل کے قیام کا مقصد حکومت کی مدت میں غیرمعینہ مدت تک اضافہ ہے کیونکہ ڈھائی ماہ کی حکومت میں کون غیرملکی انویسٹر آپ کے ملک میں سرمایہ کاری کرنے آئے گا جبکہ غیرملکی سرمایہ کاری میں 21 فیصد پہلے ہی کمی آچکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے پاکستان کی معاشی بحالی کا قومی پلان تیار کرلیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کونسل کے پہلے اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف، تمام وزرائے اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

حکومت پاکستان نے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں آج پاکستان کی ‘معاشی بحالی’ کی جامع حکمت عملی جاری کر دی ہے۔ ‘اکنامک ریوائیول پلان’ کے عنوان سے تیار کردہ اس قومی حکمت عملی کا مقصد پاکستان کو درپیش موجودہ معاشی مسائل اور بحرانوں سے نجات دلانا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

برطانوی ٹریڈنگ اسکیم سے پاکستان کو 12 کروڑ پاؤنڈز کی بچت کا امکان

پاک سوزوکی موٹرز کا گاڑیوں اور موٹرسائیکلز کی پیدار مزید16دن بند رکھنے کااعلان

وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں غیرملکی سرمایہ کاری کے راستے میں رکاوٹیں دور کرنے کے لئے قائم کردہ ‘اسپیشل انوسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل’ (ایس آئی ایف سی) کے پہلے اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف، تمام وزرائے اعلیٰ، وفاقی اور صوبائی وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک ہوئے۔

منصوبے کے تحت زراعت، لائیو اسٹاک، معدنیات، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی اور زرعی پیداوار جیسے شعبوں میں پاکستان کی اصل صلاحیت سے استفادہ کیا جائے گا۔

منصوبے کے تحت ان شعبوں کے ذریعے پاکستان کی مقامی پیداواری صلاحیت اور دوست ممالک سے سرمایہ کاری بڑھائی جائے گی۔

منصوبے کے تحت ‘ایک حکومت’ اور ‘اجتماعی حکومت’ کے تصور کو فروغ دیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں۔

اس منصوبے پر عملدرآمد کو تیز کرنے کے لئے ‘اسپیشل انوسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل’ (ایس آئی ایف سی) بنادی گئی ہے جو سرمایہ کاروں اور سرمایہ کاری میں سہولت کے لئے ‘سنگل ونڈو’ کی سہولت کا کردار ادا کرے گی۔

منصوبے کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اشتراک عمل پیدا کیا جائے گا۔ طویل اور دقت کا باعث بننے والے دفتری طریقہ کار اور ضابطوں میں کمی لائی جائے گی۔ تعاون اور اشتراک عمل کا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ سرمایہ کاری اور منصوبوں سے متعلق بروقت فیصلہ سازی یقینی بنائی جائے گی جبکہ وقت کے واضح تعین کے ساتھ منصوبوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی لائی جائے گی تاکہ ایک ہی معاملے پر دوہری کوششوں کے رجحان کا خاتمہ ہو۔

وفاق اور صوبوں کی اعلیٰ سطح شرکت تمام مشکلات کے باوجود معاشی بحالی کے قومی عزم کا واضح اظہار ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے یقین دلایا کہ معاشی بحالی کی حکومت کے پلان پر عملدرآمد کی کوششوں کی پاکستان آرمی بھرپور حمایت کرتی ہے اور اسے پاکستان کی سماجی و معاشی خوش حالی اور اقوام عالم میں اپنا جائز مقام واپس حاصل کرنے کی بنیاد سمجھتی ہے۔

وزیراعظم نے یاد دلایا کہ موجودہ حکومت کو ورثے میں تباہی کے دھانے پر کھڑی معیشت ملی جسے مشکل اور دلیرانہ فیصلوں کے ذریعے بحرانوں سے نکال کر تعمیر و ترقی کی طرف واپس لا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ابھی بہت بڑے چیلنجز ہمارے سامنے ہیں۔ معاشی بحالی کے لئے برآمدات بڑھانے والی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ لہذا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اجتماعی سوچ اپناتے ہوئے موثر عملدرآمد کے لئے وفاق اور صوبوں میں شراکت داری کا انداز اپنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو اولین ترجیح دی جائے گی اور اشتراک عمل کے ذریعے منصوبوں سے متعلق منظوری کا عمل تیز بنایا جائے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ متوقع سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ نوجوانوں اور خواتین کو روزگار ملے گا، ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ ہماری توجہ نوجوانوں اور خواتین کو اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کے قابل بنانا ہے۔ انہیں با اختیار بنانا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئیں مل کر اپنی بھرپور صلاحیتوں سے کام کرنے کا عزم کریں اور اپنی توجہ بھٹکنے نہ دیں۔ ہم پاکستان اور عوام کا مقدر بدل سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے ہمیں مسلسل اور سخت محنت کرنا ہوگی اور سمت برقرار رکھتے ہوئے ملک وقوم کو ترقی اور خوش حالی کے راستے پر گامزن رکھنا ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور اس کے عوام کا حق ہے کہ انہیں معاشی ترقی اور خوش حالی سے ہم کنار کیا جائے، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے یہ فرض سونپا ہے۔

تبصرہ

حکومتی پلان پر تبصرہ کرتے ہوئے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلاشبہ حکومتی پلان بہت زبردست ہے ، مگر مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کے پاس وقت ہے نہیں ، تو پھر سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی ، کیونکہ ڈھائی میں سرمایہ کاری کا سر ہی آجائے تو بڑی بات ہے مایہ تو بعد کی کہانی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آج جون کی 21 تاریخ ہو گئی ہے ، آئین کے مطابق اس حکومت کی مدت 12 اگست کو ختم ہورہی ہے، کون سا سرمایہ کار آپ کے سرمایہ کاری کرنے کے لیے آئے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اپنے ملک کے سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں تو غیرملکی سرمایہ کار کیسے آئیں گے آپ کے ملک کے اندر انویسٹمنٹ کے لیے؟۔

رپورٹ

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ترسیلات زر اور برآمدات دونوں میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہوئی ہے، مئی کو نکال کر گذشتہ 11 ماہ کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 21 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ مئی کے مہینے میں آمدن ماہ بہ ماہ اور سال بہ سال دونوں بنیادوں پر بڑھی۔

متعلقہ تحاریر